کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر عمرہ ویزے پر سعودی عرب جانے والی ایک خاتون کو امیگریشن حکام نے مشکوک سفری معلومات کی بنیاد پر آف لوڈ کر دیا۔ بعد ازاں ہونے والی تحقیقات میں خاتون نے ایسے انکشافات کیے جن کے بعد معاملہ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے شبے کے تحت مزید سنگین ہو گیا۔
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ترجمان کے مطابق دورانِ امیگریشن کلیئرنس خاتون کی سفری معلومات مشکوک محسوس ہونے پر اسے مزید پوچھ گچھ کے لیے روک لیا گیا۔ تفتیش کے دوران خاتون نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ اس کا سعودی عرب جانے کا مقصد غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونا تھا۔
ایف آئی اے کے مطابق خاتون نے بتایا کہ وہ اس سے قبل بھی دو مرتبہ سعودی عرب جا چکی ہے، جہاں وہ مبینہ طور پر ایسی ہی سرگرمیوں میں شامل رہی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ان سرگرمیوں کے بدلے اسے ہر ماہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے معاوضہ دیا جاتا تھا۔
تحقیقات کے دوران خاتون نے مزید بتایا کہ اس کے گزشتہ سفروں کے انتظامات سعودی عرب میں مقیم ذیشان اور مانی نامی افراد نے کیے تھے، جبکہ موجودہ سفر کے تمام انتظامات الیاس نامی شخص نے کیے۔ خاتون کے مطابق اس بار وہ کسی ایجنٹ کے ذریعے نہیں بلکہ خود کام کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔
ایف آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خاتون کے موبائل فون کا ابتدائی جائزہ لینے پر بعض مشکوک وائس میسجز اور تصاویر بھی برآمد ہوئی ہیں، جنہیں تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق خاتون کو مزید قانونی کارروائی اور تفصیلی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اس سے مبینہ نیٹ ورک، سہولت کاروں اور دیگر متعلقہ افراد کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
عمرہ ویزے پر سعودی عرب جانے والی خاتون آف لوڈ، تحقیقات میں حیران کن انکشافات
