کراچی کے علاقے لیاری میں جماعت اسلامی کے مقامی دفتر پر ہونے والے دستی بم حملے کے بعد چاکیواڑہ پولیس نے دہشت گردی اور دھماکا خیز مواد سے متعلق قوانین کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔
پولیس کے مطابق حملہ منگل کی شب چاکیواڑہ کے علاقے پھول پتی لین، حاجی بچل روڈ پر واقع جماعت اسلامی کے دفتر پر کیا گیا۔ دستی بم دھماکے کے نتیجے میں جماعت اسلامی کے مقامی حلقہ ناظم سمیت تین افراد زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
واقعے کا مقدمہ جماعت اسلامی کے مقامی ناظم حلقہ عبدالباقی کی مدعیت میں نامعلوم ملزم کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں ایکسپلوسیو سبسٹینس ایکٹ 1908، انسداد دہشت گردی ایکٹ کی متعلقہ دفعات، تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 324 سمیت دیگر قانونی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
مدعی عبدالباقی نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ جماعت اسلامی میں شمولیت اور فلاحی سرگرمیوں کے آغاز کے بعد انہیں مختلف نامعلوم ذرائع سے مسلسل دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔ ان کے مطابق حملہ آور نے جان سے مارنے کی نیت اور علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کے مقصد سے دفتر پر ہینڈ گرنیڈ پھینکا، جس کے دھماکے سے وہ اور ان کے دو ساتھی زخمی ہو گئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کرنے کے بعد کیس کی تفتیش تھانہ چاکیواڑہ کے کرائم انویسٹی گیشن سیل (CIC) کے سپرد کر دی گئی ہے۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ حملہ آور کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
لیاری میں جماعت اسلامی کے دفتر پر دستی بم حملہ، دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج
