چین کے جنوبی خودمختار علاقے گوانگشی میں طوفان مایساک کے باعث آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ حکام کے مطابق سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مسلسل موسلادھار بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث ہزاروں خاندان اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں، جبکہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق اتوار سے شروع ہونے والی طوفانی بارشوں نے گوانگشی کے متعدد شہروں اور دیہی علاقوں کو شدید متاثر کیا۔ گھروں، سڑکوں، زرعی زمینوں اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا، جس کے باعث ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ حکام کے مطابق صرف گوانگشی سے 60 ہزار سے زائد افراد کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 90 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
رینہے گاؤں میں سیلابی پانی چند گھنٹوں کے اندر اتنی تیزی سے بلند ہوا کہ گھروں کی نچلی منزلیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی جانیں بچانے کے لیے فوری طور پر گھروں سے نکلنا پڑا اور بیشتر افراد صرف تن پر موجود کپڑوں کے ساتھ محفوظ مقامات کی جانب روانہ ہوئے۔
طوفان مایساک کے چین سے ٹکرانے کے بعد گوانگشی، ناننگ اور گرد و نواح کے علاقوں میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ کئی علاقوں میں لوگ گھروں کی چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں، جبکہ دور دراز پہاڑی علاقوں میں متعدد افراد اب بھی امدادی ٹیموں کے منتظر ہیں۔ مسلسل بارشوں نے ریسکیو ٹیموں کی نقل و حرکت بھی متاثر کی ہے، جس سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ادھر صوبہ ہوبے کے مختلف علاقوں میں شدید گرج چمک، آندھی اور چند مقامات پر بگولوں نے بھی تباہی مچائی ہے، جس کے باعث خراب موسم کے اثرات مزید بڑھ گئے ہیں۔ مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی، ٹریفک اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی اور ریسکیو کارروائیوں میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ انہوں نے انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دینے اور متاثرین کو فوری امداد فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔ تاہم مقامی حکام نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل بارشیں امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہی ہیں اور کئی علاقوں تک رسائی اب بھی ممکن نہیں ہو سکی۔
چین میں طوفان اور سیلاب کی تباہی، ہلاکتیں 17 ہوگئیں، ہزاروں افراد بے گھر
