نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے یورپی اتحادی ممالک اور کینیڈا کی جانب سے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اتحاد کی دفاعی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی اور مشترکہ سلامتی کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔
انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارک روٹے نے بتایا کہ یورپی ممالک اور کینیڈا 2025 اور 2026 کے دوران دفاعی شعبے میں مجموعی طور پر 258 ارب ڈالر کے اضافی اخراجات کریں گے، جسے انہوں نے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی صنعت میں ہونے والی یہ سرمایہ کاری صرف عسکری صلاحیت بڑھانے تک محدود نہیں بلکہ اس کے مثبت معاشی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق یورپی اور کینیڈین سرمایہ کاری کے نتیجے میں امریکا میں تقریباً دو لاکھ ملازمتوں کو سہارا ملا ہے، جبکہ یورپ اور کینیڈا میں بھی دفاعی صنعت میں نئی ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں۔
مارک روٹے نے کہا کہ گزشتہ سال نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں ہونے والے نیٹو اجلاس کا محور دفاعی منصوبہ بندی اور اہداف کا تعین تھا، جبکہ اس سال کا اجلاس ان منصوبوں پر عملی درآمد کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ کیے گئے وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے نیٹو کے یورپی اتحادیوں پر دفاعی اخراجات کم رکھنے پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ اتحاد کے تمام رکن ممالک کو اپنی دفاعی ذمہ داریاں مساوی انداز میں نبھانی چاہئیں تاکہ اجتماعی سلامتی کا نظام مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
نیٹو اجلاس میں دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی، مشترکہ عسکری حکمت عملی اور مستقبل کے چیلنجز سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دفاعی اخراجات میں اضافہ اتحاد کی مجموعی تیاری اور رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
نیٹو اتحادیوں کے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ، مارک روٹے نے خیرمقدم کیا
