ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر پاکستان نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں کی مکمل پاسداری کریں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے میں پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ ترجمان کے مطابق کسی بھی نئے تنازع کا آغاز کسی فریق کے مفاد میں نہیں، اس لیے تمام متعلقہ ممالک کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو خطے کے امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ موجودہ حالات میں مسلسل رابطے، سفارتکاری اور مذاکرات ہی مسائل کے حل کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اختلافات کو طاقت کے بجائے سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے تاکہ خطے کو مزید عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔
دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت باہمی احترام، اعتماد اور افہام و تفہیم پر مبنی ایک اہم بنیاد فراہم کرتی ہے۔ پاکستان نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنائیں، کیونکہ یہی خطے اور دنیا میں امن و مشترکہ خوشحالی کے فروغ کا بہترین راستہ ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی ایران میں امریکی فوج کی کارروائیوں کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں آٹھ فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان بیانات کا تبادلہ بھی مزید سخت ہو گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف مزید کارروائی کا امکان موجود ہے۔ ان کے حالیہ بیان کے بعد عالمی سطح پر خطے کی صورتحال پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ خطے میں امن، استحکام اور پائیدار حل کے لیے تمام فریقین کو تحمل، ذمہ داری اور سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
پاکستان کا ایران امریکا کشیدگی پر تحمل کا مشورہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا مطالبہ
