ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران دفاعی صنعت فورم میں 11 اتحادی ممالک نے مشترکہ طور پر ساب گلوبل آئی (Saab GlobalEye) طیارے خریدنے کا اعلان کیا ہے، جو نیٹو کے نئے ایئر بورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم (AWACS) کا حصہ ہوں گے۔ اس فیصلے کو اتحاد کی فضائی نگرانی اور ابتدائی وارننگ صلاحیت کو جدید بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
نیٹو کے مطابق نیا گلوبل آئی نظام اتحاد کے پرانے بوئنگ ای تھری (Boeing E-3) طیاروں کی جگہ جزوی طور پر استعمال کیا جائے گا۔ جدید نظام ایک ہی پلیٹ فارم سے فضائی، زمینی اور سمندری نگرانی کی صلاحیت فراہم کرے گا، جس سے مختلف نوعیت کے خطرات کی بروقت نشاندہی اور نگرانی ممکن ہو سکے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ جدید طیارے ڈرونز کے بڑے حملوں، بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور دیگر پیچیدہ خطرات کا مؤثر انداز میں سراغ لگانے اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سے نیٹو کی مجموعی صورتحال سے آگاہی میں اضافہ ہوگا اور اتحاد کی دفاعی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔
نیٹو نے اس منصوبے کو یورپی، کینیڈین اور امریکی دفاعی صنعتوں کے درمیان قریبی تعاون کی ایک نمایاں مثال قرار دیا ہے۔ منصوبے میں یورپ اور کینیڈا کی دفاعی صنعت مرکزی کردار ادا کرے گی، جبکہ امریکی کمپنیوں کی جانب سے بھی اہم تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی۔
اس کے ساتھ ہی نیٹو کے آٹھ دیگر رکن ممالک نے بھی اپنی قومی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فضائی ابتدائی وارننگ صلاحیتوں کے فروغ کے لیے ایک الگ مشترکہ منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نیٹو حکام کے مطابق انقرہ سربراہی اجلاس میں دفاعی صلاحیتوں اور صنعتی تعاون سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کا اعلان کیا جا رہا ہے، جن کا مقصد اتحاد کی دفاعی تیاری، مشترکہ ردعمل اور ممکنہ خطرات کے مقابلے کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
نیٹو کا نیا فضائی نگرانی نظام خریدنے کا فیصلہ، 11 اتحادی ممالک کا مشترکہ معاہدہ
