جنوبی امریکی ملک وینزویلا میں 24 جون کو آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 3 ہزار 685 ہو گئی ہے، جبکہ 16 ہزار 740 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ہزاروں شہری اب بھی بے گھر ہیں اور ملک بھر میں امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔
قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگز نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے تازہ بیان میں بتایا کہ قدرتی آفت سے متاثرہ 86 ہزار 794 خاندانوں کو امدادی سامان اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور امدادی ادارے متاثرین کی بحالی کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق اب تک 6 ہزار 462 افراد کو ملبے اور متاثرہ علاقوں سے محفوظ نکالا جا چکا ہے۔ زلزلوں کے نتیجے میں 856 عمارتوں کو نقصان پہنچا جبکہ 190 عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو گئیں، جس کے باعث ہزاروں افراد کو عارضی رہائش گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ علاقوں میں 9 ہزار 603 میٹرک ٹن خوراک تقسیم کی جا چکی ہے، جبکہ 83 لاکھ 20 ہزار لیٹر سے زائد صاف پانی بھی فراہم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 25 ہزار 970 زخمی اور بیمار افراد کو طبی سہولیات مہیا کی گئی ہیں تاکہ متاثرین کو فوری ریلیف دیا جا سکے۔
امدادی کارروائیوں میں 29 ہزار 567 سرکاری اہلکار اور 28 ہزار 362 رضاکار حصہ لے رہے ہیں، جبکہ مختلف ممالک سے آنے والے 4 ہزار 388 بین الاقوامی ریسکیو اہلکار بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ حکومت نے بے گھر ہونے والے شہریوں کے لیے ملک بھر میں 87 عارضی امدادی کیمپ قائم کیے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی زلزلوں کے بعد اب تک ایک ہزار 76 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جس کے باعث متاثرہ علاقوں میں خوف و ہراس برقرار ہے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق 24 جون کو وینزویلا میں صرف 39 سیکنڈ کے وقفے سے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو طاقتور زلزلے آئے تھے، جنہوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ اس قدرتی آفت کے بعد قومی اور بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو فوری ریلیف اور بحالی کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
وینزویلا میں دو طاقتور زلزلوں سے ہلاکتیں 3,685 تک پہنچ گئیں
