Baaghi TV


مغربی بنگال میں ووٹر فہرست سے نام خارج، لاکھوں مسلمان مستقبل سے پریشان

‎بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے بعد لاکھوں افراد، خصوصاً مسلمانوں، کو شدید بے یقینی کا سامنا ہے۔ انتخابی فہرستوں سے نام خارج ہونے والے شہریوں کو خدشہ ہے کہ وہ نہ صرف حقِ رائے دہی سے محروم ہو جائیں گے بلکہ سرکاری فلاحی سہولتوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
‎مرشد آباد سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ مزدور انتو شیخ بھی ایسے ہی متاثرہ افراد میں شامل ہیں، جن کا نام ووٹر لسٹ سے نکال دیا گیا۔ وہ کئی ہفتوں سے اپنے شناختی اور سرکاری دستاویزات کا پلندہ اٹھائے مختلف دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں تاکہ اپنی شہریت اور ووٹر حیثیت ثابت کر سکیں۔
‎بھارت کے الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں "خصوصی جامع نظرثانی” مہم شروع کی، جس کا مقصد فوت شدہ، جعلی یا مشتبہ ووٹروں کی نشاندہی کرنا بتایا گیا۔ تاہم مغربی بنگال، جو بنگلہ دیش سے متصل ریاست ہے، وہاں مرکزی حکومت نے اس مہم کو مبینہ غیرقانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کے نام ووٹر فہرستوں سے نکالنے سے جوڑا۔
‎ماہرین کی جانب سے سامنے آنے والے تجزیوں کے مطابق اس مہم کے دوران مسلمانوں کے نام غیرمتناسب انداز میں زیادہ خارج کیے گئے، خصوصاً ان اضلاع میں جہاں مسلم آبادی نمایاں ہے اور انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ مرشد آباد بھی انہی اضلاع میں شامل ہے۔
‎ریاستی انتخابات سے قبل تقریباً 90 لاکھ افراد کے نام ووٹر فہرستوں سے نکالے گئے۔ انتخابات کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی پہلی مرتبہ مغربی بنگال میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔
‎حکومت نے اعلان کیا کہ جن افراد کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے ہیں، وہ سرکاری راشن اور دیگر فلاحی منصوبوں کے اہل بھی نہیں رہیں گے۔ بعد ازاں وضاحت کی گئی کہ جن شہریوں نے خصوصی ٹریبونلز میں اپیل دائر کر رکھی ہے، انہیں فیصلہ آنے تک سہولتیں ملتی رہیں گی۔
‎انتو شیخ بھی انہی اپیل کنندگان میں شامل ہیں، تاہم انہیں راشن کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے مزید دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وہ روزانہ اجرت پر ریلوے تعمیراتی منصوبوں میں کام کرتے ہیں اور روزگار کی وجہ سے مختلف ریاستوں میں جانا پڑتا ہے۔
‎ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ صرف کاغذی کارروائی کے لیے اپنے گاؤں میں رکے رہے تو آمدنی کا واحد ذریعہ بھی ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں ان کے خاندان کو راشن بھی نہ مل سکے اور وہ مسلسل غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

More posts