آزاد جموں و کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے کور ممبر شوکت نواز میر کی مبینہ گرفتاری سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی آزاد کشمیر پولیس نے تردید کر دی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق شوکت نواز میر کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا اور ان کی گرفتاری سے متعلق بعض میڈیا رپورٹس حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران مختلف ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ شوکت نواز میر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کر لیا ہے۔ اس حوالے سے بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ بھی زیر گردش رہی، تاہم آزاد کشمیر پولیس کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ایسی اطلاعات درست نہیں اور شوکت نواز میر اب تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں نہیں آئے۔
پولیس حکام کے مطابق شوکت نواز میر مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں اور انہیں گرفتار کرنے کے لیے کارروائیاں کی گئی تھیں، تاہم وہ گرفتاری سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔
حکام کے مطابق کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کمیٹی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی کر رہی تھی، جس کے تناظر میں مختلف معاملات کی تحقیقات جاری ہیں۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر کے محکمہ داخلہ نے اس سے قبل شوکت نواز میر سمیت کالعدم کمیٹی کے چار سرگرم رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والوں کے لیے انعام کا بھی اعلان کیا تھا۔ انعامی فہرست میں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان کے نام شامل ہیں۔
پولیس حکام نے کہا ہے کہ مطلوب افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی اور قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ دوسری جانب شوکت نواز میر کی جانب سے اس تازہ مؤقف پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ معاملے پر مزید پیش رفت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
شوکت نواز میر کی گرفتاری کی خبرفیک، بی بی سی کی خبر غلط نکلی
