Baaghi TV


آٹزم کے شکار بچوں کے لیے عالمی معیار کا سینٹر آف ایکسیلنس جلد قائم کیا جائے، اسحاق ڈار

‎نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت اسلام آباد میں سینٹر آف ایکسیلنس فار آٹزم کے ایڈوائزری بورڈ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر (ASD) کا شکار بچوں کے لیے معیاری تعلیم، ابتدائی تشخیص، بحالی اور معاونت کی سہولیات کو مزید مؤثر بنانے کے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
‎اجلاس کے دوران آٹزم سے متاثرہ بچوں کے لیے جامع اور جدید سہولیات کی فراہمی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ خصوصی بچوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا ماحول تشکیل دیا جائے جہاں انہیں معیاری تعلیم، بروقت تشخیص، علاج اور بحالی کی سہولیات ایک ہی چھت تلے میسر آ سکیں۔
‎وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے اجلاس کو اسلام آباد میں آٹزم کے شکار بچوں کے لیے عالمی معیار کے سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام سے متعلق پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں منصوبے کے مختلف مراحل، دستیاب سہولیات اور مستقبل کی حکمت عملی سے آگاہ کیا گیا، جبکہ اس شعبے سے وابستہ معروف ماہرین کی آراء بھی کمیٹی کے سامنے پیش کی گئیں تاکہ منصوبے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تشکیل دیا جا سکے۔
‎اسحاق ڈار نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ خصوصی بچوں کی تعلیم، تربیت اور بحالی کے لیے دنیا بھر میں رائج کامیاب ماڈلز اور بہترین طریقہ کار سے استفادہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا عزم ہے کہ آٹزم سے متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو ایسی سہولیات فراہم کی جائیں جو ان کی تعلیمی، سماجی اور نفسیاتی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کر سکیں۔
‎انہوں نے مزید ہدایت کی کہ سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام کے منصوبے پر کام میں تیزی لائی جائے تاکہ یہ ادارہ جلد از جلد فعال ہو سکے اور خصوصی بچوں کو جدید سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
‎اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ حکومت خصوصی افراد، بالخصوص آٹزم کے شکار بچوں، کی فلاح و بہبود کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور انہیں معاشرے کا باوقار اور فعال حصہ بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔
‎اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، وفاقی سیکریٹریز برائے تعلیم و صحت اور مختلف متعلقہ اداروں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی اور منصوبے کی کامیاب تکمیل کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

More posts