Baaghi TV


چین سے بڑھتے تجارتی خسارے پر یورپی یونین کا سخت مؤقف

برسلز: یورپی یونین نے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی عدم توازن پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال مزید قابل قبول نہیں۔ یورپی یونین کے تجارتی کمشنر ماروش شیفچووچ نے برسلز میں چینی وزیر تجارت وانگ وینتاؤ کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان تجارتی تعلقات میں توازن پیدا کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
‎مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ماروش شیفچووچ نے کہا کہ چین کی یورپی یونین کو برآمدات مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ چینی منڈی میں یورپی مصنوعات کا حصہ مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو یورپی صنعت اور معیشت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے موجودہ تجارتی نظام میں اصلاحات ضروری ہیں۔
‎گزشتہ کئی برسوں تک یورپی یونین آزاد تجارت کی مضبوط حامی سمجھی جاتی تھی، تاہم اب حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ یورپی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ چینی صنعت کو حکومتی سبسڈیز، کم لاگت پیداوار اور بڑے پیمانے پر صنعتی سہولیات حاصل ہونے کے باعث یورپی کمپنیوں کو غیر مساوی مقابلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
‎یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لیئن اس سے قبل بھی چینی صنعت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو "نیا چائنا شاک” قرار دے چکی ہیں۔ یورپی ممالک کے درمیان اگرچہ اس بات پر مختلف آراء موجود ہیں کہ چین کے خلاف کتنی سخت تجارتی پالیسیاں اختیار کی جائیں، تاہم اس پر وسیع اتفاق پایا جاتا ہے کہ مقامی صنعت اور روزگار کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
‎بین الاقوامی تعلقات کے ماہر پروفیسر فلپ لی کورے کے مطابق یورپ میں چین کے حوالے سے سوچ نمایاں طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔ ان کے بقول یورپی کمپنیاں اب حقیقی خطرات محسوس کر رہی ہیں، اسی لیے یورپی یونین اپنی آزاد تجارتی اور صنعتی حکمت عملی تشکیل دینے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
‎اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں چین کا یورپی یونین کے ساتھ تجارتی سرپلس 360 ارب 60 کروڑ یورو تک پہنچ گیا، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہے۔ اس وقت چین شمسی توانائی کے پینلز، نایاب معدنیات، کیمیکلز، صنعتی روبوٹس اور دیگر اہم شعبوں میں یورپی منڈی پر مضبوط گرفت رکھتا ہے۔
‎ادھر چینی گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں بھی یورپ کی معروف آٹو موبائل صنعت کے لیے بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی ہیں۔ یورپی یونین کی جانب سے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 35.3 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کیے جانے کے باوجود بی وائی ڈی، جیلی اور چیری جیسے برانڈز کی فروخت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مئی 2026 میں پہلی بار یورپی یونین میں فروخت ہونے والی مجموعی گاڑیوں میں چینی برانڈز کا حصہ 10 فیصد سے تجاوز کر گیا، جس نے یورپ کی روایتی آٹو انڈسٹری کے لیے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

More posts