امریکا کے صدارتی دفتر وائٹ ہاؤس میں قیمتی کٹلری اور کھانے کے برتنوں کی مسلسل گمشدگی نے انتظامیہ کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ وائٹ ہاؤس کے چیف بٹلر ایڈون پی مارکھم کی جانب سے جاری کیے گئے ایک داخلی میمو میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں چمچ، کانٹے، چھریاں اور دیگر اشیا لاپتا ہو چکی ہیں۔
یکم مئی 2026 کو جاری کیے گئے میمو کے مطابق 29 اپریل کو ہونے والی انوینٹری میں معلوم ہوا کہ تقریباً 10 فیصد مجاز اشیا اپنی جگہ سے غائب ہیں اور ان کا سراغ نہیں مل سکا۔میمو میں بتایا گیا کہ 148 ڈنر فورکس، 96 سلاد فورکس، 119 چائے کے چمچ، 84 ڈنر نائف، 63 بٹر نائف اور متعدد قیمتی سلور سرونگ آئٹمز لاپتا ہیں۔ اس کے علاوہ کافی کپ، ساسرز، وائن گوبلٹس اور شیمپین فلُوٹس بھی غائب پائے گئے۔انتظامیہ کے مطابق سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال سلاد فورکس کی ہے، جو دو مرتبہ مکمل طور پر ختم ہو گئے۔ ایک موقع پر متبادل ایئر فورس ون سے سلاد فورکس منگوانے پڑے جبکہ دوسری بار مقامی اسٹور سے پلاسٹک فورکس خرید کر کام چلایا گیا۔
میمو میں طنزیہ انداز میں کہا گیا کہ یہ واضح نہیں کہ اشیا کو یادگار کے طور پر جیب میں ڈالا جا رہا ہے، غلطی سے ذاتی درازوں میں منتقل کیا جا رہا ہے یا کچھ افراد نے “عوامی خدمت” کو “مفت گھریلو سامان” سمجھ لیا ہے۔وائٹ ہاؤس انتظامیہ نے تمام عملے کو ہدایت کی ہے کہ فوری طور پر کسی بھی غیر واضح کمی کی رپورٹ کریں، برتنوں کو منظور شدہ مقامات سے باہر نہ لے جائیں اور اگر کسی کے پاس وائٹ ہاؤس کی کوئی چیز موجود ہے تو اسے واپس کر دیا جائے۔میمو کے اختتام پر سخت الفاظ میں کہا گیا کہ “یہ سب اب فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔”
