Baaghi TV

روڈ پر جنم لیتے بچے، راستوں میں مرتے مریض، گوجرخان کا والی وارث کون؟تحریر :قمرشہزاد مغل

جی ٹی روڈ پر واقع عمارت جسے کہنے کو تو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کہا جاتا ہے، لیکن درحقیقت وہ گوجرخان کے باسیوں کے لیے ایک ریفرل سنٹر اور جیتے جاگتے انسانوں کے لیے مقتل بن چکا ہے۔ گوجرخان کا ٹی ایچ کیو ہسپتال آج بھی کسی مسیحا کا منتظر ہے۔ کسی ایسے صاحبِ اختیار کا منتظر جو تصویروں، بیانات اور وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے۔ کسی ایسے نمائندے کا منتظر جو سڑک پر جنم لینے والے بچے کی ماں کی تکلیف محسوس کرے، راستے میں دم توڑتے مریض کی آخری سانس کا کرب سمجھے اور عوام کی بے بسی کو اپنی سیاسی ذمہ داری جانے۔ ورنہ تاریخ یہی لکھے گی کہ گوجرخان میں ہسپتال تو تھا، مگر علاج نہیں تھا، نمائندے تو تھے، مگر نمائندگی نہیں تھی، اور عوام تو تھے، مگر ان کا کوئی والی وارث نہیں تھا۔ کیا ضمیر مر چکے ہیں یا احساس کی رگیں سن ہو چکی ہیں؟ پوٹھوہار کی زرخیز دھرتی، جس نے ملکی سیاست کو بڑے بڑے نامور جلیل القدر رہنما اور عہدے دار دیے، آج اپنے ہی بیٹوں اور بیٹیوں کے خون کا نوحہ پڑھ رہی ہے۔ تحصیل گوجرخان کے لاکھوں عوام کا پرسا دینے والا کوئی نہیں اور اس بے حسی کا سب سے بڑا مرکز جی ٹی روڈ کے کنارے وسیع و عریض رقبے پر پھیلی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجرخان کی عمارت دراصل کوئی علاج گاہ نہیں، بلکہ اس نظامِ کہنہ کا وہ نوحہ ہے جسے سن کر پتھر کا دل بھی پگھل جائے، مگر افسوس کہ ہمارے چنے ہوئے نمائندوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ چوہدری پرویز الٰہی کے دور میں اس ہسپتال پر ‘ٹراما سنٹر’ کا چمکتا ہوا بورڈ تو سجا دیا گیا، مگر وقت نے ثابت کیا کہ وہ ٹراما سنٹر نہیں، بلکہ گوجرخان کے غیور عوام کے ساتھ ایک بدترین ڈراما سنٹر تھا جو آج تک چلی آ رہی ہر حکومت اور ہر سیاسی جماعت کے دور میں کامیابی سے کھیلا جا رہا ہے۔ جدید دور کا نعرہ لگانے والے ذرا آ کر دیکھیں کہ یہاں نہ تو کوئی فنکشنل آئی سی یو (ICU) ہے، نہ زندگی بچانے والا وینٹی لیٹر، اور نہ ہی قبل از وقت پیدا ہونے والے معصوم بچوں کے لیے کوئی نرسری، نہ ریڈیالوجسٹ ہے، یہ کیسی ترقی ہے جہاں ایک حاملہ ماں، ایک بوڑھا باپ یا حادثے کا شکار کوئی نوجوان بنیادی طبی سہولت کو ترستا ہے؟ نتیجہ؟ ایک ہی لکیر پیٹی جاتی ہے "راولپنڈی ریفر کر دو”۔ وہ راولپنڈی جو گوجرخان سے گھنٹوں کی مسافت پر ہے۔ اس خونی راستے میں کتنے ہی بوڑھے باپ اپنے بیٹوں کے کندھوں پر دم توڑ گئے، کتنے ہی بھائی سسک سسک کر مٹی ہو گئے، اور بے حسی کی انتہا دیکھیے کہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ایمبولینسوں یا سڑک کنارے گاڑیوں میں بچوں کو جنم دینے پر مجبور ہیں۔ کیا یہ مناظر دیکھ کر ان ایوانوں میں بیٹھے پنڈتوں کو شرم نہیں آتی؟ مسئلہ ڈاکٹروں، نرسوں یا پیرامیڈیکل اسٹاف کا نہیں ہے۔ سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث ان کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے ہیں۔ وہ خود اس بوسیدہ نظام کے یرغمالی ہیں۔ عوام اور ڈاکٹرز آمنے سامنے ہیں، کہیں ہاتھا پائی ہو رہی ہے تو کہیں سڑکوں پر موت بٹ رہی ہے، لیکن اصل مجرم وہ سیاسی اشرافیہ جو ہر الیکشن میں ووٹ مانگنے آپ کی دہلیز پر ناک رگڑتی ہے وہ غائب ہے۔ اگر ان نمائندوں میں رتی برابر بھی غیرت اور وفا ہوتی، تو آج گوجرخان کا ہسپتال گریۂ زاری کی داستان نہ بنا ہوتا۔ کچھ دن شور مچتا ہے، سوشل میڈیا پر طوفان اٹھتا ہے، کوئی بے بس ڈاکٹروں کو گالیاں دیتا ہے تو کوئی صحافیوں کے قلم پر سوال اٹھاتا ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ ان تماش بین سیاسی رہنماؤں کے گریبان پر کوئی ہاتھ کیوں نہیں ڈالتا؟ ان سے کوئی کیوں نہیں پوچھتا کہ تمہاری شاہانہ مراعات، تمہاری وی آئی پی پروٹوکول والی گاڑیاں تو وقت پر پہنچ جاتی ہیں، مگر غریب کے لیے وینٹی لیٹر، بچوں کی نرسری، آئی سی یو یونٹ، کیوں نہیں بن سکتا؟

ہر حادثے کے بعد ہم چند دن ماتم کرتے ہیں اور پھر نئے مقتول اور نئے واقعے کے انتظار میں سو جاتے ہیں۔ آج گوجرخان کا ہسپتال کسی لفاظی یا کھوکلے دعوے کا نہیں، بلکہ ایک حقیقی مسیحا کا متلاشی ہے۔ کوئی تو ہو جو اس دھرتی کا والی وارث بنے، جو راستے میں تڑپنے والوں کا کرب اپنے سینے پر محسوس کرے، جو سڑک پر بچہ جنتی بہن بیٹی کی بے بسی پر خون کے آنسو روئے۔ کب تک ہم ان تماش بینوں کی شطرنج کے مہرے بنے رہیں گے؟ چشم پوشی کرنے والے ان حکمرانوں کو اب آئینہ دکھانے کا وقت آ چکا ہے۔ اگر اب بھی گوجرخان کے عوام نے اپنے حق کے لیے ان سیاسی بتوں کے گریبان نہ پکڑے، تو یاد رکھیے، اگلا جنازہ خدانخواستہ کسی کا بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ موت کسی کا سیاسی نظریہ دیکھ کر نہیں آتی۔

More posts