معاشرہ افراد کے مجموعے کا نام ہے اور اس کی ترقی یا زوال کا دارومدار لوگوں کے رویوں پر ہے۔ رویہ انسان کی تربیت، اخلاق اور سوچ کا عکس ہوتا ہے۔ مثبت رویے معاشرے کو جوڑتے ہیں جبکہ منفی رویے اسے توڑ دیتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں آج دو طرح کے رویے عام ہیں۔ ایک وہ لوگ جو محبت، برداشت، تعاون اور عزت کو اپناتے ہیں۔ وہ دوسروں کی بات سنتے ہیں، کمزور کا سہارا بنتے ہیں اور چھوٹی بات پر جھگڑا نہیں کرتے۔ یہی لوگ معاشرے کی اصل بنیاد ہیں۔ دوسری طرف وہ رویے ہیں جو عدم برداشت، حسد، بدتمیزی اور خود غرضی پر مبنی ہیں۔ ٹریفک میں گالی گلوچ، قطار توڑنا، سوشل میڈیا پر کسی کی تضحیک کرنا اور اختلاف رائے کو دشمنی سمجھنا اب عام ہو چکا ہے۔ ایسے رویے معاشرے کے امن کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انسان کا رویہ یکدم نہیں بنتا۔ اس کی تشکیل میں گھر، اسکول اور میڈیا تینوں کا کردار ہے۔ بچہ سب سے پہلے گھر سے سیکھتا ہے۔ اگر والدین ایک دوسرے سے عزت سے پیش آئیں، سچ بولیں اور مہمان نوازی کریں تو بچہ بھی وہی اپنائے گا۔ اسکول میں استاد کا کام صرف کتاب پڑھانا نہیں بلکہ کردار بنانا بھی ہے۔ افسوس کہ آج تعلیم صرف ڈگری تک محدود رہ گئی ہے۔ اخلاق اور تہذیب پیچھے رہ گئے ہیں۔ تیسرا استاد میڈیا ہے۔ جو مواد ہم روز دیکھتے ہیں وہی ہمارے لاشعور میں بیٹھ جاتا ہے۔ نفرت، طنز اور فیک نیوز نے ہمارے صبر کو کم کر دیا ہے۔
رویوں کی خرابی کی بڑی وجہ "میں” کا بڑھ جانا ہے۔ ہم دوسروں کو نیچا دکھا کر خود کو اونچا سمجھتے ہیں۔ برداشت ختم ہو گئی ہے۔ تھوڑی سی مخالفت پر ہم لڑنے مرنے پر آ جاتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور ناانصافی نے لوگوں کو چڑچڑا کر دیا ہے، مگر یاد رکھیں کہ رویہ حالات سے زیادہ ہمارے انتخاب سے بنتا ہے۔
اصلاح کی شروعات خود سے کرنی ہوگی۔ مسکرا کر بات کرنا، شکریہ اور معذرت کہنا، بزرگوں کا احترام کرنا، چھوٹوں سے شفقت کرنا اور دوسرے کے احساس کو سمجھنا – یہ چھوٹے عمل ہی بڑی تبدیلی لاتے ہیں۔ جب ہر شخص دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے گا تو معاشرہ خود بخود بہتر ہو جائے گا۔
قومیں اینٹ پتھر سے نہیں بنتیں، رویوں سے بنتی ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان پرامن، ترقی یافتہ اور عزت دار ملک بنے تو ہمیں اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ کیونکہ دنیا ہمیشہ ویسی ہی بنتی ہے جیسے ہم ہوتے ہیں۔
