مگر اب کی بار کٹہرے میں کوئی ایک فرد کھڑا نہیں ہے۔ آج ہم سب مجرم کی حیثیت سے آمنے سامنے کھڑے ہیں
یہ سوالات نئے نہیں، مگر ان کی گونج اب پہلے سے زیادہ ہولناک ہے۔جب بھی کوئی حادثہ یا واقعہ ہوتا ہے، ہم بیدار ہو جاتے ہیں۔
قانون اور اخلاقیات پر بحث شروع ہو جاتی ہے۔ پھر ہم کچھ دنوں میں سب کچھ بھول کر سو جاتے ہیں۔
کیا ہم واقعی ایک زندہ اور سوچنے والا معاشرہ ہیں؟
یا صرف ایسے واقعات پر ماتم کرنا ہماری عادت بن چکا ہے؟
مگر اب کی بار کٹہرے میں کوئی ایک فرد کھڑا نہیں ہے۔آج ہم سب مجرم کی حیثیت سے آمنے سامنے کھڑے ہیں۔
ہم ہر المیے کو ایک سیاسی یا سماجی تماشا بنا دیتے ہیں۔
یہ تحریر اسی آئینے کو صاف کرنے کی ایک کوشش ہے۔
لیکن اب کی بار ان سوالوں کا بوجھ سرگودھا کی اس معصوم بچی کے جنازے سے بھی بھاری ہے۔
وہ معصوم، جو اپنے ننھے ہاتھوں میں کچھ پیسے لیے کسی دکان پر سودا لینے گئی تھی۔اسے کیا معلوم تھا کہ گلی کا وہی راستہ اس کی زندگی کا آخری سفر بن جائے گا۔
ہم کیسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں بچے چیز لینے نکلیں تو لاشیں بن کر لوٹتے ہیں؟
زینب سے لے کر منتہا تک یہ خونی سلسلہ آخر کب تھمے گا؟
میرا یہ یہ کالم صرف ایک حادثے کا ماتم نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی کا ماتم ہے
سرگودھا کے بلاک نمبر 8 میں جو ہوا، وہ کسی ایک درندے کی وحشت نہیں ہے وہ اس گلے سڑے نظام اور بیمار ذہنیت کا کڑوا پھل ہے جسے ہم روز پالتے ہیں۔
ںسرگودھا میں 8 سالہ معصوم بچی منتہا کے ساتھ پیش آنے والا دل دہلا دینے والا واقعہ نہ صرف ایک جرم بلکہ پورے معاشرے کی ناکامی ہے۔
ایک معصوم بچی گھر کے قریب دکان پر گئی اور واپس نہیں آئی
CCTV
کی مدد سے
اور پولیس بروقت ایکشن سے دو ملزمان گرفتار ہوئے اگر پولیس نے بروقت رسپانس نہیں کیا ہوتا تو ملزم منتہا کی لاش ٹھکانے لگا چکے ہوتے۔۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ زینب، نور اور اب منتہا ۔۔۔
ہر بار ہم احتجاج کرتے ہیں، مگر نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آتی۔
ایک معصوم بچی کا اس طرح کا انجام پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔
معصوم منتہا جیسے بچے ہمارے مستقبل ہیں
ہم اپنے بچوں کو محفوظ ماحول بھی نہیں دے پا رہے
یہ واقعہ صرف ایک مجرم کا جرم نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی ناکامی ہے
جہاں قانون سست، معاشرہ بے حس اور نظام جواب دہ نہیں۔
کیا ہمارا قانون ایسے درندوں کو سرے عام سزا دے سکتا ہے؟
کیا ہماری بچیاں گھر کے قریب بھی محفوظ ہیں؟
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جذبات کے ساتھ ساتھ اس کا حل بھی تلاش کریں۔
بچوں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین، فوری انصاف اور والدین کی ذمہ داری ۔۔۔
یہ سب مل کر ہی کام کر سکتے ہیں۔
اللہ ہم سب کے بچوں کو اس طرح کے سانحات سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
