Baaghi TV

ایک اور زینب،تحریر: بینا علی

سرگودھا میں سات آٹھ سال کی ایک معصوم بچی دکان پر سودا لینے گئی۔ واپس نہ آئی۔ گھر والوں نے بہت ڈھونڈا۔ سوشل میڈیا پر بھی بتایا۔ پولیس نے دکان کے کیمرے دیکھے۔ بچی اندر جاتے ہوئے نظر آئی باہر آتے ہوئے نہیں۔
پولیس نے دکان کی تلاشی لی تو اوپر والی منزل سے بوری میں بند لاش ملی۔ یہ اسی بچی کی تھی۔پتا چلا کہ دکان کا ملازم ارسلان یہ سب کر چکا تھا۔ وہ دس سال سے وہاں کام کر رہا تھا۔ اس نے پہلے بچی کے ساتھ زیادتی کی پھر اسے بے دردی سے قتل کر دیا۔ لاش بوری میں ڈال کر اوپر چھپا دی۔پولیس نے ارسلان کو گرفتار کر لیا ہے۔ بچوں کو ان خونی درندوں سے بچانے کے لیے یہ اقدامات بہت ضروری ہیں۔
1۔ ایسے مجرموں کے فیصلے اتنے کم وقت میں ہوں کہ صدر کو معافی نامہ بھیجنے یا مزید کسی رعایت کی گنجائش نہ رہے۔ مجرم جلد سے جلد اپنے کیفرِ کردار تک پہنچے۔ انصاف کے عمل کو بالکل بھی تاخیر کا شکار نہ کیا جائے۔
2. اس طرح کے کیس کے فیصلے جلد سے جلد ہونے چاہییں۔ کیونکہ انصاف میں دیر ہونا ماں باپ کے لیے بہت بڑی سولی ہے۔ ایک تو بچے کے ساتھ اتنا ظلم ہو اور اس کے بعد اسے بے دردی سے قتل بھی کر دیا جائے۔
3. اگر عدالتوں نے تاریخوں پر تاریخیں دینی ہیں تو پھر ہمارے قانون پر تف ہے۔ انصاف جلدی ملے گا تو ہی یہ سلسلہ رکے گا۔
4. والدین ہوشیار ہو جائیں: سب لوگ اس بات سے آگاہ رہیں کہ اب تو بچے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ بہت قریبی رشتہ داروں سے بھی بچے حادثوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تو جب باہر کے ماحول میں بچے کو بھیجیں تو اس طرح بالکل بھی بچے کو اکیلا باہر نہ بھیجیں۔ اس معاشرے میں آپ بچی ہو یا بچہ اس کو آپ اس طرح اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔
اللہ بچی کی مغفرت فرمائے اور ہمیں اپنے بچوں کی حفاظت کی توفیق دے۔ آمین۔

More posts