Baaghi TV

بنت حوا

حوا کی بیٹیاں بھی عجیب ہوتی ہیں چاند کی طرح ٹھنڈک کو سمیٹے ہوئے نرم ونازک پتیوں کی طرح چاہے کچھ کا کچھ ہو جائے بس غموں کو سمیٹ لیتی ہیں محبتوں کی عادی نفرتوں سے انجان دنیا میں بستی ہیں کوئی ڈانٹ ڈپٹ کر لے تو دھیرے سے ہنس لیتی ہیں ان کی مسکراہٹ کی پیچھے سو غم ہوتے ہیں خواب خاک ہو جائیں دل ہی دل میں رو کر غموں کو سمیٹ لیتی ہیں پھر بھی پتہ نہیں کیوں ان معصوم کلیوں کو بے دردی سے مسل دیا جاتا ہے جب باپ کا سائبان اٹھ جاتا ہے سر سے تو طرح طرح کی انگلیاں اٹھتی ہیں ان بیٹیوں پر اور اپنے ہی ظالم ہوتے ہیں اس فہرست میں سب سے آگے ان سے خاممخواہ کی دشمنی مول لیتے ہیں جبکہ یہ تو امن کی پیکر ہوتی ہیں

عورت ایک مقدس رشتہ ہے ماں کی صورت میں جنت بیٹی کی صورت میں رحمت بیوی کی صورت میں عزت اور بہن کی صورت میں غیرت ہے حقیقت سے ناواقف ان کی اہمیت کیا جانے اسکی اہمیت تو عقلمند دانا لوگ ہی جانتے ہیں ہمارے معاشرے میں بنت حوا کے ساتھ ہونے والے مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں آج بھی بیٹیوں پر ظلم کرنا کوئی انہونی نہیں ہے کہیں انہیں بہو ہونے کا جرم سہنا پڑ رہا ہے تو کہیں اولاد میں بیٹیاں پیدا کرنے پر مظالم کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پیدا ہوتے ساتھ ہی بعض جاہل اور ظالم لوگ ان سے زندگی چھین لیتے ہیں اور کہیں ہر دوسرے گھر میں بیٹی کو بہو کا چہرہ سمجھ کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور کہیں تنگدستی کی وجہ سے ان پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں حالانکہ بیٹی تو وہ عظیم شے ہے جس کے متعلق امام جعفرصادق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ بیٹی نیکی ہے اور بیٹا نعمت ، نیکی کا اجر دیا جاتا ہے اور نعمت کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں ایک مرتبہ میرے پاس ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کی دو بچیاں تھیں میرے پاس اس وقت بس ایک کھجور ہی تھی وہ میں نے اسے دے دی اس نے کھجور کے دو حصے کئے دونوں بچیوں کو دے دیئے خود نہ لی میں اس عورت کو حیرت سے دیکھتی رہی وہ اٹھی اور چلی گئ اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے میں نے اس عورت کا ذکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے ہاں دو بچیاں پیدا ہوں وہ ان کی پرورش اپنی حیثیت کے مطابق اچھے طریقے سے کرے اچھا کھلائے پلائے یہاں تک کہ وہ بلوغت کو پہنچ جائیں تو وہ بچیاں اس کے لئے قیامت کے روز جہنم کی آگ سے ڈھال بن جائیں گی یہ واقعہ بیٹیوں پر ظلم کرنے والوں کے لئے ایک راہ عمل ہے ایک سبق ہے کیونکہ بیٹی ایک عظیم رشتہ ہے اور معاشرے میں بیٹیوں کے ساتھ ناروا سلوک کر کے ان میں احساس کمتری پیدا کرنے والوں کو یہ سوچنا چاہیے بیٹیاں اللہ کی رحمت ہیں اور اللہ کی نظر میں سب برابر ہیں برتری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا صرف تقوی کی بناء پر فضلت حاصل ہے

More posts