ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے لیے فضائی سفر شدید متاثر ہو گیا ہے اور متعدد بڑی عالمی ایئرلائنز نے خطے کے لیے اپنی پروازیں معطل یا محدود کر دی ہیں۔
ڈچ ایئرلائن کے ایل ایم، جرمن ایئرلائن لفتھانزا اور فرانس کی ایئر فرانس ان نمایاں عالمی ایئرلائنز میں شامل ہیں جنہوں نے ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ کے لیے پروازیں روک دی ہیں،ان پابندیوں سے اسرائیل، دبئی اور ریاض جیسے بڑے بین الاقوامی مراکز بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
ایئر فرانس نے جغرافیائی و سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ عارضی طور پر دبئی کے لیے اپنی پروازیں معطل کر رہی ہے کمپنی کا کہنا ہے کہ مسافروں اور عملے کی سلامتی اولین ترجیح ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب کے ایل ایم نے ان تمام پروازوں کو روک دیا ہے جن کے لیے ایران، عراق اور خطے کے دیگر ممالک کی فضائی حدود استعمال کرنا ضروری تھا ڈچ ایئرلائن کے مطابق وہ اسرائیل، دبئی، دمام اور ریاض کے لیے پروازیں بھی معطل کر چکی ہے اور اس سلسلے میں ڈچ حکام سے قریبی رابطے میں ہے۔
لفتھانزا گروپ نے اسرائیل کے لیے صرف دن کے اوقات میں محدود پروازیں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ ایرانی فضائی حدود کے استعمال سے مکمل گریز کیا جا رہا ہے اسی طرح یونائیٹڈ ایئرلائنز اور ایئر کینیڈا نے بھی تل ابیب کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
پروازوں میں اس اچانک خلل کی بنیادی وجہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا نے احتیاطی طور پر ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب روانہ کر دیا ہے، تاہم ممکن ہے اسے استعمال نہ کرنا پڑے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی بحری بیڑے میں یو ایس ایس ابراہم لنکن پر مشتمل طیارہ بردار جنگی گروپ اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز شامل ہیں، جو جلد بحیرۂ عرب یا خلیج فارس کے علاقے میں پہنچ سکتے ہیں۔
فضائی ماہرین اور ایوی ایشن اداروں نے بھی خبردار کیا ہے کہ خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات شہری ہوابازی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں گزشتہ ہفتے ایران نے ممکنہ امریکی کارروائی کے خدشے کے پیشِ نظر 4 گھنٹے سے زائد وقت کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی، جس سے دنیا بھر کی پروازیں متاثر ہوئیں۔
عالمی ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ جب تک خطے میں صورتحال واضح نہیں ہو جاتی، پروازوں کی بحالی کا کوئی حتمی شیڈول طے نہیں کیا جا سکتا۔
