Baaghi TV

آج کل کے تیزی سے بدلتے حالات میں بچوں کی اچھی پرورش والدین کی اہم اور بڑی ذمہ داری

خوش نصیب ہوتے ہیں وہ والدین جن کی اولاد انھیں اپنا محسن اپنا دوست سمجھتے ہیں اسی طرح خوش نصیب ہوتی ہے وہ اولاد جن کے ماں باپ دوستانہ انداز سے انھیں پالتے ہیں انکا خیال رکھتے ہیں ان کی پرورش کرتے ہیں بچوں کو دوست بنانا ایک فن ہے جو ہر کسی کو حاصل نہیں ہوتا جس طرح حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں بچوں اور والدین میں بہت بڑا فرق پیدا ہو رہا ہے ایکدوسرے سے دور ہو رہے ہیں تو ایسا کیا کیا جائے کہ بچے والدین کے قریب ہو جائیں ان کے دوست بن جایئں یہ کام والدین کو کرنا پڑے گا تو اس کے لیے بچوں کی تعریف کی جائے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے ان کو سراہیں ہر کوئی چاہتا ہے اس کی تعریف کی جائے اگر آپ بچوں کی جائز سچی اور دل سے تعریف کریں گے تو بچے آپ کو اپنا دوست سمجھنے لگیں گے جیسے جیسے آپ بچوں پر تنقید کریں گے بچے آپ سے دور ہوتے جایئں گے تو لہذا بچوں کی تعریف کریں اور ان کی حو صلہ افزائی کریں

بچوں سے بات چیت کریں ان کی بات پوری توجہ سے سنیں اگر آپ ان کی بات توجہ سے غور سے نیں سنیں گے ان کی بات نہیں سمجھیں گے آہستہ آہستہ بچے ان لوگوں کو ڈھونڈ لیں گے جو ان کی بات سنیں ان کی بات پر توجہ دیں اس طرح بچے والدین سے دور ہو جاتے ہیں
لہذا بچوں کو اپنے قریب رکھنے اور دوستانہ ماحول رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی باتوں کو غور اور توجہ سے سنیں اور معاملات کے حل میں ان کی مدد کریں اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچے آپ کے دوست بنیں تو اس کے لیے آپ اپنے بچوں کا رول ماڈل بن جایئں بچے وہ نہیں سنتے جو آپ کہتے ہیں بچے وہ دیکھتے ہیں جو آپ کرتے ہیں اگر آپ کے قل و فعل میں تضاد ہو گا تو بچے دل میں یہ ساچنا شروع کر دیں گے کہ ہمارے ماں باپ کے اندر منافقت پائی جاتی ہے تو یہ منافقت ان کے اندر بھی آہستہ آہستہ منتقل ہونا شروع ہوجاتی ہے تو اس منافقت کی بنا پر وہ آپ سے بھی دور ہو جایئں گے اور دوسرے لوگوں سے بھی –

More posts