Baaghi TV

قالین مختلف جلدی اور سانس کی بیماریاں پھیلانے کا ذریعہ

گھروں میں قالین بچھانے کا رواج کبھی بھی ختم نہیں ہوا حالانکہ آج کل لوگ ماربل کے فرش کے ساتھ قالین کا استعمال کم ہی کرتے ہیں لیکن پھر بھی فرش کے سنٹر میں قالین بچھانے کا رواج کسی بھی دور میں ختم نہیں ہوا ڈاکٹرز اکثر قالین بچھانے کو بیماری کا گھر بھی قرار دیتے ہیں مگر خواتین کا یہ شوق کسی بھی قسم کی بیماری کی پرواہ کئے بغیر جاری رہتا ہے دنیا بھر میں گھروں کو قالینوں سے سجانے کا عام رواج ہے اور لوگ اس شوق پر لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں لیکن یہ قالین بہت سی بیماریوں کا باعث بن جاتے ہیں برطانیہ میں ہونے والی تحقیق کے مطابق قالین گھر کی آلودگی میں اضافہ کرتے ہیں ان سے سانس اور جلد کی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں باہر سے آنے والی مٹی کو قالین جذب کرلیتا ہے ماہرین کے مطابق ویکیوم کلینر سے قالین پر پڑی گرد تو صاف ہو جاتی ہے لیکن جراثیموں کا خاتمہ ممکن نہیں ہوتا تین مہینے تک قالین پر مردہ انسانی جلد کے ذرات بال مٹی جراثیم اور اس کے علاوہ دیگر حشرات کے جسم کے اجزاء بھی رہ جاتے ہیں اور اسی وجہ سے انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں ہر تین ماہ سے پہلے قالین دھونا ضروری ہے ورنہ یہ سانس اور جلد کی بیماریاں پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں مہرین کے مطابق اگر گھر کے کمرے میں قالین بچھا ہو اور چھ ماہ تک دھویا نہ جائے تو سانس اور جلد کی بیماریوں کے خطرات میں ساٹھ فیصد تک اضافہ ہو جاتا ہے گھر میں قالین بچھانے کی شوقین خواتین کو چاہئے کہ تھوڑی سی توجہ صفائی پر دیں تاکہ گھر والے مختلف بیماریوں سے بچ سکیں

More posts