Baaghi TV

رحمان ڈھیری پاکستان کا قدیم ترین شہر

آج سے پانچ ہزار سال قبل جب وادی نیل اور دجلہ فرات میں تہذیب کا ارتقاء ہو رہا تھا وادی سندھ یعنی موجودہ پاکستان کی سرزمین نے ایک عظیم تہذیب کو جنم دیا تھا چونکہ اس تیذیب کی تمام اہم بستیاں اور شہر دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے کنارے آباد تھے اس لئے اس کو وادی سندھ کے نام سے پُکارا جاتا پے وادی سندھ کی تہذیب کو قدیم میساپوٹیما اور مصر کی تہذیبوں پر کئی لحاظ سے فوقیت حاصل تھی انسانی تہذیبوب میں وادی سندھ کی تہذیب کا نکردار خاصآ اہم رہا ہے اپنے دور عروج پر یہ تہذیب میسوپوٹیما سے کئی گنا زیادہ تھی یہ ہمالیہ سے جمنا تک 13 لا کھ مربع کلو میٹر تک پھیلی ہوئی تھی اور اس لحاظ سے کوئی آٹھ سو میل چوڑا ساحل سمندر بحر ہند سے لے کر آبنائے ہرمز تتک پھیلا ہواتھا بحری تجارت کے ذریعے عرب امارات دجلہ فرات ساحل ایران اور کویت تک تعلق قائم کئے ہوئے تھا اسی طرح مغرب و شمال مغرب میں سلسلہ ہائے کوہ ہندوکش اور بلوچستان کے دروں کے ذریعے افغانستان ایران اور وسط ایشیاء سے اس کے تجارتی تعلقات قائم تھے وادی گومل میں رحمان ڈھیری کی دریافت اور اس کی تحقیق آثار قدیمہ کی تاریخ میں خاصی اہمیت رکھتی ہے پاکستان کے اس قدیم شہر کی بنیا د تقریباً 33 قبل از مسیح میں رکھی گئی تھی چونکہ یہ شہر اس دور میں دریائے سندھ کے کنارے آباد تھا اس کی زمین زراعت کے لئے نہایت موزوں تھی موہنجودڑو سے کوئی چھ سو سال قدیم ہونے کے باوجود محققین کی رائے میں اس کی آبادی کوئی دس ہزار افراد پر مشتمل تھی جن کا ذریعہ معاش تجارت اور صنعت وحرفت پر مبنی تھا زراعت میں گندم باجرہ روئی اور سرسوں کی کاشت کو خاص اہمیت حاصل تھی یہاں پر کانسی اور پتھروں کے اوزار اور ہتھیار بھی ملے ہیں ان کا بودوباش میں اہم کردار ادا رہا ہے ان کے اشیائے خوردنی میں پچھلی ہرن بھیڑ بکری بیل گائے بھینس اور خرگوش کے گوشت دودھ اور مکھن کو خاص اہمیت حاصل ہے

More posts