Baaghi TV

وٹامن ڈی کی کمی کے انسانی جسم پر اثرات

ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ جب تک ہمارے جسم میں کوئی بیماری پیدا نہ ہو تو ہم خود پر توجہ نہیں دیتے حالانکہ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ ایسا کرنا درست عمل نہیں 24 گھنٹے مصروف رہنے کے لئے ہمیں بہت ساری توانائی کی ضرورت رہتی ہے جو صرف اور صرف اچھی غذا کھانے سے ہی مل سکتی ہے لیکن اب بھاگم دوڑ اور مصروفیت کی وجہ سے اچھے طریقے اور ٹائم سے غذا نہیں کھاتے اس غذائی قلت کی وجہ سے ہمارے جسم میں بہت سے وٹامنز اور منرلز کی کمی ہو جاتی ہے اور ہم کمزور پر جاتے ہیں ہمارا امیون سسٹم یعنی قوت مدافعت بھی کمزور ہو جاتی ہے اور ہم با بار بیمار پڑ جاتے ہیں لیکن کیا کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ آخر وہ کونسی علامات ہیں جن سے ہم اس بات کا اندازہ لگا سکیں کہ ہمارے جسم میں کس چیز کی کمی ہے اگر تھوڑی سی کوشش کر لی جائے اور اپنا کھانا پینا ہی تبدیل کر کے اور ٹائم پر کھانے سے آپ ان وٹامنز کو بڑی آسانی سے گھر پر ہی پورا کر سکتے ہیں اور بیماریوں سے پاک بھر پور صحت مند زندگی کا مزہ لے سکتے ہیں ان وٹامنز میں سب سے اہم وٹامن ڈی ہو تا ہے ہمارے جسم کا ڈھانچہ ہڈیوں کا بنا ہے جو ہمیں اٹھائے کھڑا ہے اگر ہڈیوں میں وٹامن ڈی کی کمی ہوگی تو ہماری ہڈیاں کمزور ہو کر ٹوٹ بھی سکتی ہیں لہذا ہمیں اس اہم وٹامن کو کبھی کم نہیں ہونے دینا چاہئے اور ہمیشہ اسے پورا رکھنا چاہیئے مندرجہ ذیل علامات میں سے کوئی بھی علامت موجود ہے تو آپ کو فوراً وٹامن ڈی کا ٹیسٹ کروانا چاہیئے اور اس کمی کو فوری طور پر پورا کرنا چاہیئے تا کہ آپ ایک صحت مند زندگی گزار سکیں سب سے پہلی علامت یہ ہے کہ آپ کو ہڈیوں میں درد رہے گا کیونکہ وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے ہماری ہڈیاں غذاؤں سے حاصل شدہ کیلشئیم جذب نہیں کر پاتیں اور حاصل شدہ کیلشئم ہمارے جسم میں جذب ہوئے بغیر ہی خارج ہو جاتا ہے جبکہ کیلشیئم ہماری ہڈیوں کا اہم حصہ ہوتا ہے اس لئے آپ کو بھر پور وٹامن ڈی لینا چاہیئے اور کیلشئیم سے بھر پور غذاؤن کا بھی استعمال کرنا چاہیئے تاکہ آپ کی ہڈیاں مضبوط رہیں اور ہڈیوں کی کمزوری اور بھُر بُھرے پن سے بھی محفوظ رہیں وٹامن ڈی کی کمی نہ صرف ہماری ہڈیوں پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ ہمارے مسلز یعنی پٹھے بھی کمزور ہو جاتے ہیں وتامن ڈی کی کمی سے ہمارے پٹھوں میں کھنچاؤ اور درد رہتا ہے اس کے لئے وٹامن ڈی کو ٹیسٹ ضرور کروائیں ایسی غذائیں استعمال کریں جو وٹامن ڈی سے بھر پور ہوں اس کے علاوہ آپ کو بہت زیادہ پسینہ آتا ہے تو یہ بھی جسمانی کمزوری کی علامت ہے لیکن اگر آپ کو سر پر بہت زیادہ پسینہ آتا ہے تو آپ کو وٹامن ڈی کی کمی کا بہت زیادہ سامنا ہے اپنا کھانا پینا ٹھیک کریں اور زیادی سے زیادہ وٹامن ڈی حاصل کریں کیونکہ سر پر پسینہ آنا بھی وٹامن ڈی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے کمزور مدافعت نظام یعنی اگر آپ بار بار بیمار پڑ جاتے ہیں تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپکے جسم کا امیون سسٹم کمزور ہے اگر ہم مناسب مقدار میں وٹامن ڈی لیں تو ہمارا مدافعتی نظام بہتر ہوگا اور ہم کم سے کم بیمار پڑیں گے ہم اکثر اپنی مصروف زندگی کی وجہ سے تھکاوٹ اور ننید کی کمی کا شکار رہتے ہیں جو لوگ ہر وقت تھکے تھکے اور نڈھال رہتے ہیں اس کی بھی بڑی وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہے اگر جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار پوری کردی جائے تو تھکاوٹ اوت کمزوری رفتہ رفتہ کم ہو کر ختم ہو جاتی ہے اور انسان خود کو فٹ اور چست و توانا محسوس کرتا ہے وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے جسم پر زخم بھی جلدی ٹھیک نہیں ہوتے شوگر کے مریضوں میں یہ مسئلہ عام ہے وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے جسم میں شوگر اور کولیسٹرول کا توازن بگڑ جاتا ہے اگر ایسے لوگوں کو وٹامن ڈی کا استعمال کروایا جائے تو زخم جلدی سے ٹھیک ہونے لگتے ہیں اگر بال کمزور ہو رہے ہوں اور گر رہے ہوں تو یہ بھی وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے ہے وٹامن ڈی کی کمی بالوں کی نشونما کو روکتی ہے اس سے چھٹکارا پانے کے لئے وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کریں وٹامن ڈی کی کمی بے چینی اور ڈپریشن کا بھی باعث بنتی ہے ہمارے نیورو ٹرانسمیٹر کچھ ایسے ہارمونز خارج کرتے ہیں ان ہارمونز کی کمی کی وجہ سے بے چینی اور ڈپریشن ہوتی ہے وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے یہ ہارمونز کم بنتے ہیں اس لئے ہم بے چینی اور ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں ایسے لوگ چڑچڑے پن کا شکار رہتے ہیں ایسے لوگ کتنے ہی خوش اور اچھے موڈ میں بھی ہوں چھوٹی سی بات کو بتنگر بنا کر پریشان ہو جاتے ہیں ایسے لوگوں کو بہت زیادہ نیند بھی آتی ہے وٹامن ڈی اور وٹامن ڈی 3 کی کمی کی وجہ سے ہمارے جسم میں ہر وقت چڑ چڑے پن کا ماحول بنا رہتا ہے وتامن ڈی کی کمی کو پورا کر کے ان سب چیزوں سے بچا جا سکتا ہے اگر ان میں سے کوئی بھی علامت آپ کو نظر آئے تو وٹامن ڈی کو تیسٹ ضرور کروائیں اپنا طرز زندگی تبدیل کریں اپنی روزمرہ خوراک میں ایسی غذاؤں کا استعمال ضرور کریں جن میں وٹامن ڈی ہوں کبھی بھی وٹامن ڈی کی کمی کو غیر سنجیدگی سے نہ لیں بلکہ وٹامن ڈی کا حصول ممکن بنائیں اور کسی مستند ڈاکٹر سے بھی ضرور رجوع کریں

More posts