زندگی میں ایک خاموش مگر فیصلہ کن لمحہ آتا ہے جب انسان کو یہ ادراک ہو جاتا ہے کہ بعض رشتے باہمی احترام پر نہیں بلکہ محض سہولت پر قائم ہوتے ہیں۔ میں نے خود کو بارہا ایسے تعلقات میں الجھا پایا جہاں میری خلوص نیت کو تو قبول کیا گیا، مگر میری شخصیت کو نہیں۔ میری کوششوں کو سراہا نہیں گیا، صرف استعمال کیا گیا، اور میرے بڑھنے، بہتر ہونے یا آگے بڑھنے کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔ ایسے ماحول میں اچھائی کی قدر نہیں ہوتی، اسے صرف برت لیا جاتا ہے۔
میں ہمیشہ بہتر کرنے پر یقین رکھتی ہوں،پورے خلوص سے دینے، حالات کو سنوارنے اور دیانت داری کے ساتھ موجود رہنے پر۔ مگر وقت کے ساتھ یہ واضح ہوتا گیا کہ میری آمادگی کو میری کمزوری سمجھ لیا گیا۔ جو میں نے خوش دلی سے دیا، وہ شکرگزاری کے بغیر لے لیا گیا، اور جسے میں نے اپنی حدود کے ذریعے محفوظ کیا، اسے بغاوت سمجھا گیا۔ جس لمحے میں نے اپنی خودداری پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا، اسی لمحے میری موجودگی اُن لوگوں کے لیے بے معنی ہونے لگی جو کبھی مجھ پر انحصار کرتے تھے۔
یہ شعور اچانک پیدا نہیں ہوا، بلکہ مایوسی، خاموشی اور جذباتی فاصلے کی تہوں سے گزر کر سامنے آیا۔ میں نے ایک واضح نمونہ دیکھا، جب تک میں کسی مقصد کے کام آتی رہی، میں قابلِ قبول تھی۔ جیسے ہی میں نے خود کو منوانا چاہا،انکار کیا، انصاف مانگا یا برابری کی توقع رکھی میں مشکل، دور یا غیر ضروری بنا دی گئی۔ تب مجھے ایک تلخ حقیقت کا سامنا ہوا کچھ لوگ آپ کو انسان کے طور پر نہیں چاہتے، وہ آپ کو ایک ذریعے کے طور پر چاہتے ہیں۔
خود کو سمجھنا انسان سے تمام خوش فہمیاں چھین لیتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ ہر کھو دینے والی چیز ناکامی نہیں ہوتی، اور ہر خاتمہ سزا نہیں ہوتا۔ اُن جگہوں سے نکل آنا جو آپ کو خالی کر دیں، خود غرضی نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ میں نے سیکھا کہ وہ رشتے جو سچائی، حدود اور نشوونما کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، وہ قائم رہنے کے لیے بنے ہی نہیں ہوتے۔ وہ اسی لمحے ٹوٹ جاتے ہیں جب آپ خود کو سمیٹنے سے انکار کر دیتے ہیں۔
آج میں اپنی قدر کا تعین اپنی افادیت سے نہیں کرتی۔ میری اہمیت اس بات سے نہیں جانی جا سکتی کہ میں کتنا دیتی ہوں، کتنا سنبھالتی ہوں یا کتنا برداشت کرتی ہوں۔ میں سہولت بننے کے لیے نہیں، احترام کے لیے موجود ہوں۔ اور جو لوگ میری خودداری سے خوفزدہ ہوں، وہ دراصل میری خاموشی کے عادی تھے، میری موجودگی کے نہیں۔
یہ شعور مجھے بدل چکی ہے۔ اب میں الجھن کے بجائے وضاحت، وابستگی کے بجائے وقار، اور قبولیت کے بجائے خودکے احترام کا انتخاب کرتی ہوں۔ مجھے اب اس بات کا خوف نہیں کہ وہ لوگ مجھے غلط سمجھیں جنہوں نے ہمیشہ مجھے غلط سمجھ کر فائدہ اٹھایا۔ بعض اوقات نشوونما فاصلے مانگتی ہے، اور طاقت اکثر چھوڑ دینے میں ہوتی ہے۔
کیونکہ اب میں یہ جان چکی ہوں ،میں کبھی زیادہ نہیں مانگ رہی تھی،میں بس غلط لوگوں سے مانگ رہی تھی۔
