Baaghi TV

سال کا دوسرا چاند گرہن کب ہوگا؟کیا یہ پاکستان میں نظر آئے گا؟

eclipse

27 اور 28 اگست کی درمیانی شب 2026 کو جزوی چاند گرہن ہوگا۔ اس دوران چاند کا تقریباً 93 سے 96 فیصد حصہ زمین کے سائے میں چھپ جائے گا اور چاند سرخی مائل نظر آئے گا، عالمی وقت کے مطابق یہ گرہن 28 اگست کو صبح تقریباً 4 بج کر 13 منٹ پر اپنے عروج پر ہوگا۔

ماہرین فلکیات کے مطابق 27 اور 28 اگست کی درمیانی شب 2026 کا جزوی چاند گرہن ہوگا اس دوران چاند کا بڑا حصہ سرخی مائل نارنجی رنگ اختیار کرلے گا، جس کے باعث یہ منظر خونیں چاند جیسا دکھائی دے گا، چاند کی سطح کا تقریباً 96 فیصد حصہ زمین کے سائے سے گزرے گا اگرچہ یہ مکمل چاند گرہن نہیں ہوگا، تاہم چاند کے بڑے حصے کے زمین کے سائے میں آنے کی وجہ سے منظر کافی نمایاں ہوگا۔

جزوی چاند گرہن 28 اگست کو تقریباً 4 بج کر 13 منٹ عالمی وقت کے مطابق اپنے عروج پر ہوگا اس وقت چاند کا تقریباً 96 فیصد حصہ زمین کے سائے میں ہوگا،یہ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے بیشتر علاقوں میں قابلِ مشاہدہ نہیں ہوگا،جبکہ شمالی امریکا کے مختلف علاقوں میں چاند گرہن اپنے عروج پر مقامی وقت کے مطابق مختلف اوقات میں ہوگا۔

نیویارک اور ٹورنٹو میں یہ 28 اگست کی رات 12 بج کر 12 منٹ، شکاگو، ہیوسٹن اور ونی پیگ میں 27 اگست کی رات 11 بج کر 12 منٹ، ڈینور اور کیلگری میں رات 10 بج کر 12 منٹ جبکہ لاس اینجلس میں رات 9 بج کر 12 منٹ پر عروج پر ہوگا،چاند گرہن کو عام آنکھ سے دیکھنا مکمل طور پر محفوظ ہے، اسے دیکھنے کے لیے خصوصی چشموں یا حفاظتی فلٹرز کی ضرورت نہیں ہوتی،زیادہ واضح منظر دیکھنے کے لیے دوربین یا چھوٹی فلکیاتی دوربین استعمال کی جاسکتی ہے، جس سے زمین کے سائے کو چاند کی سطح پر آہستہ آہستہ حرکت کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین سورج اور چاند کے درمیان آجاتی ہے اور زمین کا سایہ چاند کی سطح پر پڑتا ہے،سورج کی روشنی جب زمین کے کرۂ ہوائی سے گزرتی ہے تو نیلی روشنی زیادہ بکھر جاتی ہے جبکہ سرخ اور نارنجی روشنی مڑ کر چاند تک پہنچتی ہے، جس کے باعث چاند سرخی مائل دکھائی دیتا ہے۔

ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ یہ فلکیاتی مظاہر زمین کے مدار اور سورج و چاند کے زاویوں میں معمولی تبدیلیوں کے باعث رونما ہوتے ہیں، ایسے مواقع سائنس دانوں کو خلا کے نظامِ حرکت کو مزید سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

More posts