وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے صحت مند ہونے پر پارٹی رہنماؤں کو خوشی اور اطمینان کا اظہار کرنا چاہیے تھا، لیکن اس کے برعکس وہ افسردہ اور غصے میں نظر آرہے ہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے حکومت سے بدلہ لینے کی باتیں کی جارہی ہیں، حالانکہ بنیادی بات یہ ہے کہ علاج بیمار شخص کا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص بیمار نہیں ہے اور اس کے باوجود اپنی مرضی کے ہسپتال میں علاج کرانے پر اصرار کرتا ہے تو اس کے پیچھے کوئی اور مقصد بھی ہوسکتا ہے۔ ان کے بقول بیماری کو بنیاد بنا کر این آر او حاصل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے، تاہم حکومت کسی قسم کی ڈیل یا ڈھیل دینے کے لیے تیار نہیں۔
طلال چوہدری نے واضح کیا کہ عمران خان کے معاملے میں نہ کوئی ڈیل ہوئی ہے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے کوئی ڈھیل دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیل اور ڈھیل سے متعلق باتیں محض پی ٹی آئی کی جانب سے بنائی گئی کہانیاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی پالیسی اور فیصلوں پر قائم ہے اور عمران خان کے معاملے میں کسی بھی قسم کی خصوصی رعایت یا خفیہ سمجھوتے کی بات درست نہیں۔
جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے متعلق سوال پر وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک سینئر سیاستدان اور ’اپوزیشن اسپیشلسٹ‘ ہیں۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن جماعتوں کو حزب اختلاف کا کردار ادا کرنے کا طریقہ سکھائیں تو یہ اچھی بات ہوگی۔
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے طلال چوہدری نے کہا کہ اس معاملے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے اور دنیا نے پاکستانی کوششوں کو تسلیم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی سفارت کاری عروج پر ہے اور قیام پاکستان سے اب تک سفارتی محاذ پر ملک نے ایسی کامیابی کم ہی دیکھی ہے۔
طلال چوہدری نے اس کامیابی کا کریڈٹ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو دیتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل کا حالیہ دورہ ایران کامیاب رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی امید پیدا ہوئی ہے اور اس کے مثبت نتائج پوری دنیا کے لیے ریلیف کا باعث بن سکتے ہیں۔
