Baaghi TV

ملک بھر کی طرح کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے کیلئے ٹھٹھہ اور ننکانہ میں بھی یوم سیاہ منا یا گیا

ملک بھر کی طرح کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے کیلئے ٹھٹھہ اور ننکانہ میں بھی یوم سیاہ منا یا گیا
باغی ٹی وی ننکانہ صاحب احسان اللہ ایاز کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر کی طرح کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے سلسلے میں ضلع ننکانہ صاحب میں بھی یوم سیاہ منایا گیا ڈپٹی کمشنر احمر نائیک کی زیر قیادت ڈپٹی کمشنر آفیسر یوم سیاہ کے سلسلے میں ریلی کا انعقاد کیا گیا ریلی میں اے سی آصف اقبال ،سی او ضلع کونسل ساجدمشرف سمیت تمام محکمہ جات کے افسران اور ملازمین اور سول سوسائٹی نے شرکت کی ریلی کے شرکاءنے کشمیری پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ بھارتی مظالم کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی گئی ،یہ ریلی اہل کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ہندوستان کی ظالمانہ پالیسیوں کی مذمت کرتی ہےخطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل فوری ہونا چاہیے اب وہ وقت دور نہیں جب کشمیر ی بھائیوں کو بھارتی چنگل سے نجات ملے گی کشمیری عوام کو بھارتی مظالم کے آگے تنہا نہیں چھوڑیں گے.
ٹھٹھہ سے نامہ نگار راجہ قریشی کی رپورٹ کے مطابق ٹھٹھہ پورے ملک کی طرح ضلع ٹھٹھہ میں بھی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسسٽنٽ کمشنر ٹھٹھہ شفیق احمد آريسر اور اسسٹنٹ کمشنر گھوڑاباری ڈاکٹر راشد چنہ کی سربراہی میں کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے "یوم سیاہ” کے موقع پر ڈپٹی کمشنر آفس سے مکلی پریس کلب تک ایک شاندار ریلی نکالی گئی – ریلی میں شرکت کرنے والوں نے ہاتھوں میں کشمیری پرچم اور پلے کارڈز اٹھاکر کشمیر کے حق اور انڈیا کے خلاف فلک شگاف نعریبازی کی – اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ٹھٹھہ شفیق احمد آريسر اور اسسٹنٹ کمشنر گھوڑاباری ڈاکٹر راشد چنہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کی بربریت اور ظلم کے خلاف ہم اپنا آواز بلند کرتے رہینگے – آج کے دن پر جموں کشمیر پر بھارت نے زبردستی قبضہ کیا اور ان کو حقوق سے محروم کیا گیا، یہی سبب کہ ہر سال اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے – انہوں نے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ اقوام متحدہ کی قرارداد پر عملدرآمد کراتے ہوئے کشمیر سے بھارتی فوج کو نکالا جائے اور کشمیریوں کو ان کے حقوق دینے میں اپنا کردار ادا کیا جائے – ریلی میں روینیو، تعلیم، صحت، سوشل ویلفیئر، انفارميشن سمیت مختلف محکموں کے افسران و عملے کے علاوہ سماجی تنظیموں کے نمائندوں اور اسکولی طلبہ و طالبات، سول سوسائٹی اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی –

More posts