سعودی عرب نے اپنے ثقافتی ورثے کو جدید ریاستی نظام سے جوڑنے کی سمت ایک ایسا منفرد قدم اٹھایا ہے جس نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ ملک بھر میں موجود لاکھوں اونٹوں کے لیے باقاعدہ پاسپورٹ کے اجرا کا فیصلہ بظاہر ایک انتظامی اقدام دکھائی دیتا ہے، مگر درحقیقت یہ فیصلہ سعودی قومی شناخت، ثقافتی شعور اور جدید دور کے تقاضوں کے درمیان ایک مضبوط ربط کی عکاسی کرتا ہے۔
اونٹ صدیوں سے جزیرۂ عرب کی تہذیب، معیشت اور صحرائی زندگی کا مرکزی کردار رہے ہیں۔ یہ جانور صرف سواری یا ذریعۂ معاش نہیں بلکہ بدوی ثقافت، صبر، وقار اور بقا کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ سعودی عرب میں اونٹوں کی حیثیت محض مویشیوں تک محدود نہیں بلکہ انہیں ثقافتی ورثے کا درجہ حاصل ہے۔ ایسے میں ان کے لیے پاسپورٹ کا اجرا دراصل اسی ورثے کو جدید ریاستی ڈھانچے میں باقاعدہ شناخت دینے کے مترادف ہے۔
سعودی وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت کے مطابق اونٹوں کے پاسپورٹس کے ذریعے جانوروں کی شناخت، نسل، ملکیت اور نقل و حرکت سے متعلق ایک جامع ڈیجیٹل نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔ یہ نظام نہ صرف مویشی پال حضرات کے لیے سہولت کا باعث بنے گا بلکہ قومی سطح پر ایک قابلِ اعتماد ڈیٹا بیس بھی فراہم کرے گا، جو بیماریوں کی روک تھام، تجارت کے فروغ اور نسلوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں دکھایا گیا سبز رنگ کا اونٹ پاسپورٹ، جس پر سعودی قومی نشان اور سنہری اونٹ کی تصویر موجود ہے، اس منصوبے کی علامتی حیثیت کو مزید واضح کرتا ہے۔ یہ پاسپورٹ ظاہری طور پر انسانی پاسپورٹ سے مشابہ ہے، گویا ریاست اس جانور کو بھی قومی سرمائے اور شناخت کے دائرے میں شامل کر رہی ہے۔ یہ پیغام واضح ہے کہ سعودی عرب میں روایت اور جدیدیت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 2024ء میں سعودی عرب میں اونٹوں کی تعداد تقریباً 22 لاکھ تھی، جو سالانہ دو ارب سعودی ریال سے زائد کی معیشت کا حصہ ہیں۔ دودھ، گوشت، افزائشِ نسل، ریسنگ اور ثقافتی میلوں میں اونٹوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ ایسے میں ان کی منظم رجسٹریشن نہ صرف معاشی استحکام کو مضبوط کرے گی بلکہ عالمی معیار کے مطابق سعودی مویشی نظام کو بھی ہم آہنگ بنائے گی۔
دنیا کے کئی ممالک میں جانوروں کے لیے شناختی چپس اور رجسٹریشن سسٹمز موجود ہیں، مگر سعودی عرب کا اونٹوں کے لیے پاسپورٹ جاری کرنا ایک منفرد مثال ہے۔ یہ اقدام اس حقیقت کی علامت ہے کہ سعودی ریاست جدید ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے بھی اپنی تہذیبی جڑوں سے جڑی رہنا چاہتی ہے۔
یوں اونٹوں کے پاسپورٹ کا اجرا صرف جانوروں کی شناخت کا منصوبہ نہیں بلکہ ایک فکری اعلان ہے:
کہ سعودی عرب میں قومی شناخت صرف انسانوں تک محدود نہیں، بلکہ وہ تمام عناصر بھی اس شناخت کا حصہ ہیں جو اس سرزمین کی تاریخ، ثقافت اور روح سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ اقدام جدید دور کی ریاست اور صدیوں پرانی تہذیب کے درمیان ایک خوبصورت اور بامعنی مکالمہ ہے۔
