Baaghi TV

دماغ کی خاموش چیخ،تحریر:صدف ابرار

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں جسمانی تکلیف کو فوراً بیماری مان لیا جاتا ہے مگر ذہنی اذیت کو آج بھی کمزوری، وہم یا ڈرامہ کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دماغ بھی جسم کا اتنا ہی اہم حصہ ہے جتنا دل، گردے یا پھیپھڑے، بلکہ اگر سچ کہا جائے تو پوری باڈی کا کنٹرول ہی دماغ کے ہاتھ میں ہے، ہماری نیند، ہماری سوچ، ہمارے فیصلے، ہمارے جذبات، سب کچھ وہیں سے جڑا ہوا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ جب یہی دماغ تھک جائے، الجھ جائے یا دباؤ میں آ جائے تو ہم اسے ماننے کے بجائے چھپانے کو ترجیح دیتے ہیں، پاکستان جیسے معاشرے میں ذہنی بیماری کو آج بھی ایمان کی کمی، کمزور اعصاب یا زیادہ سوچنے کا نتیجہ قرار دے دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ شخص مزید تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔

یہ مسئلہ صرف رویوں تک محدود نہیں بلکہ سہولیات کی کمی اسے اور سنگین بنا دیتی ہے، پاکستان کی آبادی تقریباً چوبیس کروڑ ہے مگر اس پوری آبادی کے لیے صرف پانچ سو کے قریب سائیکاٹرسٹ دستیاب ہیں، یعنی ہر ایک لاکھ افراد کے لیے صرف صفر اعشاریہ دو سے صفر اعشاریہ پچیس ماہرِ نفسیات، سادہ الفاظ میں ایک ڈاکٹر لاکھوں لوگوں کے مسائل سننے کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، ایسے میں یہ توقع رکھنا کہ ہر مریض کو بروقت اور معیاری علاج مل جائے، خود ایک خام خیالی ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں تو ذہنی صحت کی سہولت کا تصور ہی موجود نہیں۔

جو چند ماہرین دستیاب ہیں، ان کی فیس اتنی زیادہ ہے کہ ایک عام آدمی کے لیے علاج کروانا آسان نہیں، ایک ایسا شخص جو پہلے ہی ذہنی دباؤ، بے چینی یا ڈپریشن کا شکار ہو، وہ مہنگے سیشنز اور مسلسل علاج کا خرچ کیسے برداشت کرے؟ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ یا تو خود ہی خاموشی سے لڑتے رہتے ہیں یا پھر ایسے مشوروں کا سہارا لیتے ہیں جو بظاہر ہمدردی لگتے ہیں مگر حقیقت میں زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوتے ہیں۔ان تمام وجوہات کی بنا پر پاکستان میں ذہنی بیماریوں میں مبتلا 80 فیصد سے زیادہ افراد کسی بھی قسم کے پیشہ ورانہ علاج تک پہنچ ہی نہیں پاتے، اور یہی وہ خاموش المیہ ہے جس پر ہم بات کرنے سے گھبراتے ہیں، حالانکہ ذہنی صحت کوئی لگژری نہیں، یہ بھی اتنی ہی بنیادی ضرورت ہے جتنی جسمانی صحت، جب تک ہم یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ دماغ بھی بیمار ہو سکتا ہے، جب تک ہم علاج کو شرمندگی کے بجائے حق نہیں سمجھیں گے، اور جب تک ہم انسان کو پاگل کا لیبل لگانے کے بجائے سمجھنے کی کوشش نہیں کریں گے، تب تک یہ مسئلہ ہمارے معاشرے کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرتا رہے گا۔وقت آ گیا ہے کہ ہم خاموشی توڑیں، کیونکہ دماغ بھی بیمار ہوتا ہے، اور اس کا علاج بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی اور بیماری کا۔

More posts