Baaghi TV


ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب نہیں تھا، سابق امریکی عہدیدار کا دعویٰ


واشنگٹن میں امریکی انسداد دہشتگردی مرکز کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ نے کہا ہے کہ حالیہ کشیدگی سے پہلے بھی ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب نہیں تھا۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایٹمی پروگرام کو کم شدت کی طرف لے جا رہے تھے۔ ان کے مطابق ایران میں 2004 سے ایک مذہبی فتویٰ بھی موجود ہے جو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکتا ہے، اور اس کے خلاف کوئی ٹھوس انٹیلیجنس شواہد سامنے نہیں آئے۔
‎جو کینٹ نے مزید کہا کہ جون میں جب امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تب بھی ایران ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے قریب نہیں تھا۔
‎انہوں نے امریکی داخلی مباحث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی چارلی کرک نے بھی ایران کے ساتھ فوجی تصادم سے گریز کرنے پر زور دیا تھا۔ ان کے مطابق جن شخصیات کو حملوں میں نشانہ بنایا گیا، ان میں علی لاریجانی جیسے سنجیدہ مذاکرات کار شامل تھے جو کسی معاہدے تک پہنچنے کے خواہاں تھے۔

More posts