قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے تمام ارکان قومی اسمبلی سے گزشتہ چھ ماہ کے دوران استعمال کیے گئے سفری واؤچرز کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں، جس پر ارکان قومی اسمبلی نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ اقدام پہلی مرتبہ کیا گیا ہے، جس کے باعث پارلیمانی حلقوں میں سوالات جنم لے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے ارکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فضائی اور زمینی سفر کے لیے استعمال کیے گئے تمام واؤچرز کا ریکارڈ فراہم کریں۔ اس غیر معمولی اقدام پر متعدد ارکان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں کبھی بھی اس نوعیت کی تفصیلات طلب نہیں کی گئیں،ارکان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ انہیں سالانہ بنیادوں پر سفری سہولت کے طور پر 12 سے 15 لاکھ روپے کے واؤچرز فراہم کیے جاتے ہیں، جو عام طور پر دو اقساط میں جاری کیے جاتے ہیں۔ یہ واؤچرز ارکان کے پارلیمانی اور حلقہ جاتی امور کی انجام دہی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ارکان کا مؤقف ہے کہ سفری واؤچرز کے استعمال سے متعلق اچانک تفصیلات مانگنا شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے اور اس اقدام کے پس منظر کو واضح کیا جانا چاہیے۔ بعض ارکان نے اسے پارلیمانی روایات کے منافی قرار دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ارکان قومی اسمبلی نے اس معاملے کو اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور امکان ہے کہ آئندہ اجلاس میں اس پر باقاعدہ بات چیت کی جائے گی۔ ارکان اسپیکر سے وضاحت اور رہنمائی کے خواہاں ہیں تاکہ اس اقدام کی نوعیت اور مقصد کو سمجھا جا سکے۔
