مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے پاکستان کا کردار نہایت اہم، مؤثر اور فیصلہ کن ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم بورڈ آف پیس غزہ کے ساتھ کشمیر کےمسئلہ کو بھی حل کرنے میں کردار ادا کرے، نیتن یاہوجنگی مجرم،بورڈ آف پیس میں شمولیت کی بجائے عالمی عدالت انصاف میں پیش ہوں.
خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اس بورڈ میں شمولیت کا انحصار اس بات پر ہونا چاہیے کہ اسرائیل فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی افواج واپس نکالے، غزہ کے مظلوم عوام اور حماس کی جانب سے پیش کیے گئے جائز مطالبات کو تسلیم کروانے کیلئے عملی اور بھرپور کردار ادا کیا جائے، اور مستقل جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے،انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا جا چکا ہے، ایسے شخص کو بورڈ آف پیس کا رکن بنانے کے بجائے انصاف کے تقاضوں کے مطابق آئی سی سی کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے، ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو نیتن یاہو کی اس بورڈ سے بے دخلی کا فی الفور مطالبہ کرنا چاہئے۔
خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو بورڈ آف پیس کے فورم پر نہ صرف مسئلہ فلسطین بلکہ مسئلہ کشمیر پر بھی بھرپور اور دو ٹوک آواز بلند کرنی چاہیے، کیونکہ دونوں تنازعات اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل طلب ہیں،اگر بورڈ آف پیس فلسطینی عوام کی خواہشات، قربانیوں اور حقِ مزاحمت کے خلاف کوئی فیصلہ کرتا ہے تو پاکستان کو اصولی مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس بورڈ سے خود کو الگ کر لینا چاہیے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ مظلوم اقوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور انصاف، آزادی اور حق کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔
