مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ پاکستان کی بہتری اور اس کی تعمیر و ترقی کیلئے ہمیں ایک قوم بن کر دکھانا ہوگا ،ہم لسانی اختلافات ختم کرکے خود کو پاکستانی سمجھیں، ہماری شناخت صرف پاکستانی ہے، 1947میں پاکستان بنتے ہی مسئلہ کشمیر کھڑاکردیا گیا تاکہ خطے میں امن نہ ہو اور ٹھیک ایک سال بعد صہیونی ریاست اسرائیل قائم کردی گئی ، اس وقت سے آج تک اس خطے میں امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں، اسرائیل،امریکہ کا ایران پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاخلاف ورزی ہے،افغانستان کی عبوری حکومت نےدہشتگردوں کا ساتھ دے کر خود تباہی کا راستہ اختیار کیا،
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں سینئر صحافیوں کے اعزازمیں افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،تقریب سے مرکزی مسلم لیگ کراچی کے صدر احمد ندیم اعوان اور ترجمان پاکستان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم نے بھی خطاب کیا، خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ صیہونی ریاست اسرائیل نے خطہ عرب میں جنگ و جدل کا نظام برپا کیا ہوا، دوسری جانب ہمارا خطہ افغانستان، پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش ،یہاں بھی منصوبہ بندی کے تحت امن دور کیا گیا،اگر سب کا جائزہ لیا جائے تو صیہونیت، ہندوتوا کا گٹھ جوڑ نظر آتا ہے، ایک طرف پاکستان دشمنوں کو کھٹکتا ہے کیونکہ پاکستان واحد اسلامی ایٹمی طاقت ، دفاعی طور پر بہترین پوزیشن میں ہے،پاکستان کا اپنامیزائل ، دفاعی سسٹم ہے، دوسری طرف اسلامی ممالک بھی یہ امید رکھتے ہیں پاکستان واحد ایسا ملک ہےجودفاعی اعتبار سے ہر چیلنج کا مقابلہ کرے گا،دنیا کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے،اسی لیے پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے دشمن کے پاس تقسیم، دہشتگردی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں،کبھی فرقہ واریت، کبھی لسانیت، کبھی علاقائیت،اس طرح ملک کو تقسیم کر کے، بدامنی پھیلا کر دہشتگردی کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی،تاہم ہماری ذمہ داری ہے ملک کو مضبوط بنانے کے لئے کام کریں، ایک قوم بن جائیں اور تمام اختلافات بھلا کر اپنے آپ کو پاکستانی سمجھیں،ہماری شناخت صرف اور صرف پاکستان ہے،اس ملک کی ترقی کے لئے بہتری کے لئے ملکر کام کرنا ہو گا، مرکزی مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ ملک کی خدمت کریں،خدمت کی سیاست ہم کر رہے ہیں
خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا پر معاشرہ یقین کرتا ہے، میڈیا قوم کی آواز بنتا ہے اور میڈیا کی آواز سے بیانیہ بنتا ہے، قوم، معاشرے کی تعمیر نو میں میڈیا کا اہم کردار ہے، دنیا میں امن کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ دوسروں کے حقوق، آزادی کا خیال کریں، اسرائیل،امریکہ کا ایران پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاخلاف ورزی ہے،افغانستان پاکستان کی جنگ بھی سب کے سامنے ہے، پاکستان نے چالیس سال افغانوں کی خدمت کی،مہمان نوازی کی اور اس کا صلہ آج دہشتگردی کی صورت میں مل رہا ہے،امام بارگاہوں، مساجد میں دھماکے، پاکستانی سیکورٹی فورسز کے جوان ، افسر،عام شہری شہید ہو رہے ہیں، ایک سازش کے تحت شناختی کارڈ دیکھ کر گولی مار دی جاتی ہے، پاکستان کی سیکورٹی فورسز نےافغانستان کے حملے کا بھر پور جواب دیا اور بتایا کہ مذاکرات کی بات کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم جب جواب دینے پر آتے ہیں تو بھر پور طریقے سے دیتے ہیں، ہم نے ایک قوم بن کر اپنے دفاع، اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے تا کہ مشکل وقت سے ملک کو نکالا جائے، ملک خوشحال ہو اور ترقی کرے،
