ہمارے معاشرے میں ایک عجیب سا تاثر عام کر دیا گیا ہے کہ جو لوگ گلی محلوں میں موجود اسٹریٹ ڈاگز کو کھانا کھلاتے ہیں، زخمی جانوروں کا علاج کرواتے ہیں یا ان کی جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ کوئی “ممی ڈیڈی” قسم کے لوگ ہیں جنہیں انسانوں سے زیادہ کتوں کی فکر ہے۔ رحم کرنا جیسے کوئی جرم بن گیا ہو۔ لیکن اگر ہم ذرا اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں سی ڈی اے کی پالیسیوں پر تحقیق کریں تو حقیقت اس تاثر سے کہیں زیادہ خوفناک نظر آتی ہے۔ یہاں مسئلے کا حل ویکسینیشن، نیوٹرنگ یا بہتر شیلٹرز نہیں بلکہ گولیاں، زہر اور اجتماعی ہلاکتیں ہیں۔ کتوں کو پکڑ کر مار دیا جاتا ہے، زہر دے کر ہلاک کیا جاتا ہے، ماؤں کو ان کے بچوں سے جدا کر دیا جاتا ہے اور بڑی تعداد میں انہیں نام نہاد شیلٹرز میں منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں نہ مناسب خوراک ہے، نہ صاف پانی، نہ چھت اور نہ ہی موسم کی شدت سے بچنے کا کوئی انتظام۔ یہاں تک کہ پانی تک میسر نہیں ہے اور جانور پیاس سے تڑپتے رہتے ہیں۔ یہ شیلٹر نہیں بلکہ اذیت گاہیں ہیں۔
سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ نومولود پلے جب ماں سے جدا کیے جاتے ہیں تو یا تو بھوک سے بلک بلک کر مر جاتے ہیں یا بڑے کتوں کا شکار بن جاتے ہیں۔ کئی زخمی ہو کر سڑتے رہتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ دوسری طرف ہم روز اخبارات میں یہ خبریں پڑھتے ہیں کہ ریبیز کے باعث کتوں نے لوگوں کو کاٹا اور اسپتالوں میں ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا ذمہ دار کتا ہے یا ہمارا ناکام ہیلتھ سسٹم؟ ریبیز ویکسین مہیا کرنا حکومت اور محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے، نہ کہ ہر گلی کے کتے کو گولی مار دینا۔ ایک جانور کی غلطی کی سزا پورے علاقے کے تمام جانوروں کو دینا کہاں کا انصاف ہے؟
یہاں سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟ “کتا نظر آئے تو پتھر مار دو، ڈنڈا اٹھاؤ، بھگا دو۔” ظاہر ہے جب جانور کو خطرہ محسوس ہوگا تو وہ اپنے دفاع میں بھونکے گا یا کاٹے گا۔ زیادہ تر واقعات جارحیت نہیں بلکہ خوف کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جانور بھی زندہ مخلوق ہیں، ان میں بھی درد، خوف اور محبت کا احساس ہوتا ہے۔ جو لوگ انہیں کھانا کھلاتے ہیں، وہ شوقیہ نہیں کرتے بلکہ انہیں بھی جینے کا حق دیتے ہیں۔ کیونکہ ماں، ماں ہوتی ہے، چاہے انسان کی ہو یا کسی جانور کی۔ ذرا سوچئے اگر کسی انسان کے بچے کو زہر دے کر مار دیا جائے تو والدین پر کیا گزرے گی؟ تو پھر ایک بے زبان جانور کی ماں کا درد ہمیں کیوں نظر نہیں آتا؟
افسوس کی بات یہ ہے کہ عدالتیں بھی واضح احکامات دے چکی ہیں کہ کتوں کو مارنے کے بجائے نیوٹر کیا جائے، ویکسینیشن کی جائے اور آبادی کو انسانی طریقے سے کنٹرول کیا جائے، مگر ان احکامات پر عملدرآمد دکھائی نہیں دیتا۔ گولی چلانا آسان ہے، نظام بنانا مشکل۔ دنیا بھر میں کامیاب ماڈلز موجود ہیں جہاں نیوٹرنگ اور ویکسینیشن کے ذریعے مسئلہ حل کیا گیا، لیکن ہم اب بھی قتل عام کو حل سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جتنے کتے مارے جائیں گے، اتنی ہی تیزی سے نئے پیدا ہو جائیں گے، کیونکہ مسئلہ قتل سے نہیں بلکہ منصوبہ بندی سے حل ہوتا ہے۔

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ زمین صرف انسانوں کے لیے بنائی گئی ہے؟ کیا باقی مخلوق کو جینے کا حق نہیں؟ ہمارا مذہب بھی ہمیں بے زبان جانوروں پر رحم کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم پورے ملک سے تمام کتوں کا خاتمہ بھی کر دیں تو کیا ہمارے اسپتال بہتر ہو جائیں گے؟ کیا ویکسین دستیاب ہو جائے گی؟ کیا ہمارا نظام ٹھیک ہو جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ ہم صرف مزید بے حس ہو جائیں گے۔ کیونکہ جس معاشرے میں رحم ختم ہو جائے، وہاں انسانیت بھی مر جاتی ہے۔
