Baaghi TV

سوات یونیورسٹی میں خواتین کو جنسی ہراسانی کا سامنا کرنے کے خلاف آواز اٹھانے پر طالب علم گرفتار

سوات پولیس نے سوات یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے طالب علم کو یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور دیگر حکام کو مبینہ طور دھمکی دینے اور ویڈیو بنانے پر یونیورسٹی انتظامیہ کی شکایت پر گرفتار کر لیا۔ جس کے خلاف ان کے ساتھی طلبا سراپا احتجاج بن گئے اور الزام لگایا کہ گرفتار ہونے والے طالب علم نے کچھ دن پہلے طالبات کو ہراساں کرنے کے خلاف درخواست دی تھی۔ جواد احمد نامی شعبہ صحافت کے طالب علم کی گرفتاری کے خلاف یونیورسٹی میں احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ احتجاجی طلبا ایڈمنسٹریشن بلاک کے سامنے جمع ہوئے۔ وائس چانسلر اور انتظامیہ کے خلاف نعرہ بازی کی اور جواد احمد کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے گرفتاری کو انتقامی کارروائی قرار دی اور کیس واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔ مظاہرین سے خطاب میں ایک طالب علم نے کہا کہ جواد بے قصور ہے اور پھنسایا جا رہا ہے۔ ’جواد نے یونیورسٹی میں ہونے والے واقعات کے خلاف درخواست دی تھی۔ جس پر کارروائی کے بجائے اسی کے خلاف کیس بنا دیا گیا‘۔
انہوں نے وائس چانسلر اور یونیورسٹی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اور کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے وہ خاموش ہونے والے نہیں ہیں۔

More posts