ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ضلعی ہیڈ کوارٹرز پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 ننکانہ صاحب میں سال 2025 کی سالانہ کارکردگی کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے کی۔ اجلاس میں ریسکیو سیفٹی آفیسر علی عمران، عمران شہزاد، کنٹرول روم انچارج محمد نوید، اسٹیشن کوآرڈینیٹرز محمد سعید، محمد نواز، شاہد یوسف، ریسکیو افسران اور میڈیا کوآرڈینیٹر علی اکبر نے شرکت کی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کنٹرول روم انچارج محمد نوید نے بتایا کہ سال 2025 کے دوران ریسکیو 1122 ننکانہ صاحب کو مجموعی طور پر 1 لاکھ 84 ہزار 269 کالز موصول ہوئیں، جن میں 43 ہزار 81 ایمرجنسی کالز شامل تھیں۔ ان ایمرجنسیز میں 54 ہزار 553 متاثرین کو ریسکیو کیا گیا، جن میں 8 ہزار 597 روڈ ٹریفک حادثات، 28 ہزار 145 میڈیکل ایمرجنسیز، 555 آتشزدگی کے واقعات، 889 لڑائی جھگڑوں و تشدد کے کیسز، پانی میں ڈوبنے کے 32، عمارتوں کے منہدم ہونے کے 73 اور 4 ہزار 790 دیگر نوعیت کی ایمرجنسیز شامل تھیں۔
ریسکیو 1122 نے اوسطاً 7 منٹ کا ریسپانس ٹائم برقرار رکھتے ہوئے 26 ہزار 776 زخمیوں کو موقع پر طبی امداد فراہم کی، جبکہ 26 ہزار 783 متاثرین کو ابتدائی طبی امداد کے بعد مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ سڑک حادثات اور میڈیکل ایمرجنسیز کے دوران 994 متاثرین جانبر نہ ہو سکے۔ ضلعی سطح پر سہولیات دستیاب نہ ہونے کے باعث 3 ہزار 895 مریضوں کو لاہور اور فیصل آباد کے ہسپتالوں میں پیشنٹ ٹرانسفر سروس کے ذریعے بلا معاوضہ منتقل کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنگی حالات کے دوران ریسکیو 1122 ہائی الرٹ رہی اور شاہ کوٹ کے علاقے دھارو والی میں ڈرون گرنے کے واقعے میں بروقت امدادی کارروائیاں کی گئیں۔ دریائے راوی میں شدید سیلاب کے دوران 6 ہزار 728 متاثرہ افراد اور 10 ہزار 368 جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ 2 ہزار 972 افراد کو ٹرانسپورٹ سہولت فراہم کی گئی۔ ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ کے باہمی تعاون سے سیلاب کے دوران کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے ریسکیورز اور افسران کی شبانہ روز محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریسکیو 1122 کی سالانہ رپورٹ احساسِ ذمہ داری اور شاندار پیشہ ورانہ کارکردگی کی عکاس ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ وقت کے تقاضوں کے مطابق ریسکیورز کی جسمانی فٹنس اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مزید بہتری لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2026 میں عوامی روابط، آگاہی مہمات اور بنیادی تربیت کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ حادثات اور سانحات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
