دہشتگردی کے خلاف جنگ محض بندوق اور بارود کی لڑائی نہیں بلکہ یہ نظریات، بیانیوں اور قومی بقا کی جدوجہد کا نام ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس اسی حقیقت کی آئینہ دار تھی، جس میں انہوں نے نہ صرف زمینی حقائق کو اعداد و شمار کے ساتھ قوم کے سامنے رکھا بلکہ خطے میں جاری پیچیدہ حالات پر بھی دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کا موجودہ بیانیہ حقائق پر مبنی نہیں۔ ان کے مطابق افغانستان کی سرزمین آج بھی دہشتگرد اور کالعدم تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ دوحا معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہوگی، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح الفاظ میں کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے یا حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔ انہوں نے خوارج کو اسلام سے یکسر لاتعلق قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عناصر “فتنہ الہندوستان” ہیں، جن کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے، نہ بلوچستان اور بلوچیت سے۔ ان کا مقصد محض انتشار، خونریزی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا ہے۔ریاست پاکستان کا مؤقف اس حوالے سے نہایت واضح ہے کہ دہشتگردی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ دنیا نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور اقدامات کو سراہا ہے، اور یہ اعتراف عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کی گواہی دیتا ہے۔پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار اس جنگ کی شدت اور وسعت کو آشکار کرتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ملک بھر میں 75 ہزار 175 آپریشنز کیے گئے، جن میں خیبرپختونخوا میں 14 ہزار 658،بلوچستان میں 58 ہزار 778،ملک کے دیگر حصوں میں 1739 آپریشنز شامل ہیں۔اسی عرصے میں 27 خودکش دھماکے اور 5 ہزار 397 دہشتگردی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں 1235 سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جبکہ 2597 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔ یہ اعداد قربانی، صبر اور استقامت کی طویل داستان ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یاد دلایا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاقِ رائے موجود تھا، مگر سوال یہ ہے کہ اس پر مکمل اور یکساں عملدرآمد کیوں نہ ہو سکا؟ انہوں نے اس امر پر بھی توجہ دلائی کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات کی شرح زیادہ کیوں ہے، جس کا جواب محض سیکیورٹی نہیں بلکہ پالیسی، حکمرانی اور سرحدی حقائق میں پنہاں ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان اس وقت خطے میں دہشتگردی کا بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اور اتحادی افواج کے انخلاء میں افغان طالبان کا کوئی کردار نہیں تھا، جبکہ افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ آج دہشتگردی کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت دہشتگردوں کو مالی معاونت اور سرپرستی فراہم کرتا رہا ہے، اور “معرکۂ حق” میں بھارت کو مؤثر جواب دینا ناگزیر ہو چکا تھا۔ ان کے مطابق معرکۂ حق اور افغانستان میں کارروائی کے بعد دہشتگردی میں وقتی اضافہ ضرور ہوا، مگر ریاست دہشتگردی کے خلاف جنگ کو بزورِ طاقت منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے۔
پریس کانفرنس کا سب سے دوٹوک پیغام یہ تھا کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ چند ہی گھنٹوں میں افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ ریاستی ردِعمل نہ صرف مؤثر بلکہ بروقت بھی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی یہ پریس کانفرنس قوم کیلئے ایک واضح پیغام تھی دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری ہے، ریاست متحد ہے، اور دشمن چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، اسے کسی صورت امن سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ جنگ قربانی مانگتی ہے، مگر اس کا انجام ایک پرامن، مستحکم اور خودمختار پاکستان ہے۔
