ایران داخلی بے چینی اور بیرونی خطرات کا دوہرا چیلنج ایران اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ داخلی سطح پر امن و امان کی صورتحال، معاشی دباؤ، عوامی بے چینی اور ریاستی سختی نے ایسے سوالات کو جنم دے دیا ہے جو صرف تہران ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایران موجودہ حالات پر قابو پا سکتا ہے؟ اور اگر داخلی عدم استحکام بڑھتا ہے تو کیا امریکہ یا اس کے اتحادی اس صورتحال کو فوجی مداخلت کے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟
ایران کی ریاستی ساخت مضبوط اداروں، طاقتور سکیورٹی نظام اور نظریاتی بنیادوں پر قائم ہے۔ ماضی میں بھی ایران نے شدید پابندیوں، احتجاجی تحریکوں اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود نظام کو برقرار رکھا ہے۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ موجودہ امن و امان کی صورتحال لازماً ریاستی کنٹرول سے باہر ہو جائے گی۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلسل معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور شہری آزادیوں پر قدغن عوامی غصے کو کم کرنے کے بجائے بڑھا رہی ہیں۔ اگر اصلاحات اور سیاسی مکالمے کے دروازے بند رہے تو وقتی کنٹرول تو ممکن ہے، پائیدار استحکام نہیں۔ دوسری جانب امریکہ اور ایران کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدگی کا شکار ہیں۔ ایران کا جوہری پروگرام، خطے میں اس کا اثر و رسوخ، اور اسرائیل و خلیجی ممالک کے حوالے سے امریکی تحفظات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ تاہم اس کے باوجود امریکہ کی جانب سے براہِ راست فوجی حملے کا امکان فوری طور پر زیادہ نظر نہیں آتا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے، اور ایران پر حملہ پورے خطے کو ایک وسیع جنگ میں دھکیل سکتا ہے جس کے نتائج امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے بھی ناقابلِ پیش گوئی ہوں گے۔ البتہ یہ خدشہ ضرور موجود ہے کہ اگر ایران میں داخلی انتشار شدت اختیار کرتا ہے، ریاستی گرفت کمزور پڑتی ہے، یا جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی غیر معمولی پیش رفت ہوتی ہے تو امریکہ دباؤ، محدود حملوں، سائبر کارروائیوں یا پراکسی سطح کی مداخلت کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ عالمی طاقتیں اکثر داخلی کمزوریوں کو اپنے اسٹریٹجک مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ایران کے لیے اس وقت سب سے دانشمندانہ راستہ داخلی محاذ پر اعتماد سازی، معاشی اصلاحات اور عوامی شکایات کے ازالے کا ہے، جبکہ خارجی سطح پر محاذ آرائی کے بجائے سفارتی توازن کو ترجیح دینا ہوگا۔ خطے اور عالمی برادری کے لیے بھی ضروری ہے کہ ایران کے مسئلے کو جنگ کے بجائے مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے، کیونکہ ایک اور بڑی جنگ نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام کی نئی دلدل میں دھکیل سکتی ہے۔ طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی تدبر، داخلی اصلاحات اور بین الاقوامی مکالمہ ہی اس بحران کا واحد پائیدار حل ہے۔
