کچھ آوازیں وقت کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہیں، اور کچھ آوازیں تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ عشرت فاطمہ اُنہی آوازوں میں سے ایک ہیں جنہیں ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے ناظرین اور سامعین عشروں تک سنتے رہے۔ خبروں کی سنجیدگی، تلفظ کی شائستگی اور لہجے کی ٹھہراؤ—یہ سب اُن کی پہچان رہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عشرت فاطمہ نے پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا کے ابتدائی اور سنجیدہ دور میں اپنی محنت، ریاضت اور تسلسل سے ایک مقام بنایا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر مقام دائمی ہوتا ہے؟ کیا ہر سفر کی کوئی منزل نہیں ہوتی؟ اور کیا ہر پیشے میں ریٹائرمنٹ کا تصور محض ایک بے معنی رسم ہے؟
عشرت فاطمہ کا یہ کہنا کہ “ریڈیو پاکستان نے مجھے دیوار سے لگا دیا، کہا گیا کہ اب آپ کی ضرورت نہیں، آپ کام کی نہیں”—یہ جملے سن کر دکھ بھی ہوا اور حیرت بھی۔ دکھ اس لیے کہ ایک طویل عرصے تک کسی ادارے سے وابستگی رکھنے والا فرد جب یوں شکوہ کناں ہو تو بات دل کو لگتی ہے۔ اور حیرت اس لیے کہ پینتالیس برس… جی ہاں، پورے 45 سال—کیا یہ کم مدت ہے؟ کیا یہ کسی ادارے کی بے قدری کی علامت ہے یا غیر معمولی برداشت، رواداری اور احترام کی؟
اگر ہم حساب لگائیں تو پینتالیس برس کی ملازمت کا مطلب یہ ہے کہ عشرت فاطمہ نے کم و بیش اپنی پوری جوانی، اپنی توانائی، اپنی شناخت اسی ادارے کو دی۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر کسی نے 45 سال مسلسل کام کیا ہو تو اس کی عمر ستر کے لگ بھگ پہنچ چکی ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں، خواہ وہ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر، ریاستی اداروں میں ریٹائرمنٹ کا ایک واضح اصول موجود ہے۔ کہیں ساٹھ، کہیں پینسٹھ، کہیں زیادہ سے زیادہ ستر۔ اس کے بعد نہ صرف جسمانی تقاضے بدلتے ہیں بلکہ پیشے کی نوعیت بھی۔
ٹیلی وژن کی دنیا کو ہی دیکھ لیجیے۔ وہاں تو نیوز کاسٹر کے لیے چہرہ، عمر، اسکرین پریزنس اور تازگی بنیادی شرائط میں شامل ہیں۔ چالیس سال کے بعد تو بڑے چینلز بھی نیوز کاسٹر لینے سے گریز کرتے ہیں۔ مگر ریڈیو پاکستان—جسے ہم اکثر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں—وہی ریڈیو عشرت فاطمہ کو تقریباً ستر سال کی عمر تک برداشت کرتا رہا، موقع دیتا رہا، عزت دیتا رہا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ادارہ بے حس تھا یا حد درجہ بردبار؟یہ کہنا کہ “مجھے دیوار سے لگا دیا گیا” شاید جذباتی ردعمل ہو، مگر یہ مکمل سچ نہیں۔ اصل سچ یہ ہے کہ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ ادارے افراد سے بڑے ہوتے ہیں، اور اداروں کو آگے بڑھنے کے لیے نئی آوازوں، نئے لہجوں اور نئی نسل کو جگہ دینی پڑتی ہے۔ اگر ہر بزرگ آواز ہمیشہ مائیک پر قائم رہے تو پھر آنے والوں کے لیے دروازے کہاں کھلیں گے؟
ریڈیو پاکستان نے عشرت فاطمہ کو صرف ملازمت نہیں دی، بلکہ پہچان دی، نام دیا، وقار دیا۔ ایک ایسا وقار جو آج بھی اُن کے نام کے ساتھ جڑا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ انہیں کیوں رخصت کیا گیا، اصل سوال یہ ہے کہ کیا پینتالیس برس بعد بھی رخصتی کو توہین سمجھنا درست ہے؟ کیا یہ کہنا مناسب ہے کہ “آپ کام کی نہیں”—جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان ایک وقت کے بعد کام کے اُس معیار پر پورا نہیں اترتا جو ادارے کو درکار ہوتا ہے؟ادب ہمیں سکھاتا ہے کہ شکوہ بھی ایک فن ہے، اور خاموشی بھی ایک وقار۔ بعض اوقات خاموشی، شور سے زیادہ باوقار ہوتی ہے۔ عشرت فاطمہ اگر خاموشی سے رخصت ہوتیں، اپنے ماضی پر فخر کرتیں، نئی نسل کے لیے دعا کرتیں، تو شاید ان کی آواز پہلے سے زیادہ معتبر ہو جاتی۔ مگر میڈیا پر آ کر ادارے پر الزام دھرنا—وہ ادارہ جس نے نصف صدی کے قریب آپ کو برداشت کیا—یہ رویہ دل کو زخمی کرتا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ ریڈیو پاکستان کوئی ذاتی ادارہ نہیں، یہ ریاستی ادارہ ہے۔ یہاں فیصلے افراد کی پسند یا ناپسند سے نہیں بلکہ پالیسی، عمر، صحت اور ادارہ جاتی ضرورت کے تحت ہوتے ہیں۔ اگر عشرت فاطمہ کو وقت پر ریٹائر کر دیا گیا تو یہ کوئی انوکھا فیصلہ نہیں، بلکہ ایک فطری اور قانونی عمل ہے۔ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ عزت صرف مائیک پر بولنے سے نہیں ملتی، بلکہ وقت پر خاموش ہو جانے سے بھی ملتی ہے۔ بڑے لوگ وہی ہوتے ہیں جو اپنے عروج کو بھی وقار سے جیتے ہیں اور زوال کو بھی وقار سے قبول کرتے ہیں۔ عشرت فاطمہ کا ماضی قابلِ احترام ہے، مگر حال میں شکوہ کناں لہجہ اس احترام کو دھندلا دیتا ہے۔یہ کالم کسی نفی کے لیے نہیں، بلکہ ایک تلخ مگر ضروری سوال کے لیے ہے پینتالیس سال بعد بھی اگر ادارہ آپ کا ساتھ نہ دے تو کیا یہ ناانصافی ہے، یا وقت کا فطری تقاضا؟
عشرت فاطمہ سے معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ریڈیو پاکستان نے آپ سے بے وفائی نہیں کی، بلکہ آپ کو وہ سب کچھ دیا جو ہر کسی کے حصے میں نہیں آتا۔ عزت، شناخت، طویل وابستگی،یہ سب نعمتیں ہیں۔ شاید اب شکوے نہیں، شکر کا وقت ہے۔ کیونکہ تاریخ اُنہی کو یاد رکھتی ہے جو رخصت ہوتے وقت بھی مسکراتے ہیں، اور یہی مسکراہٹ اصل پہچان بن جاتی
