پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مقتدر حلقوں کو عوامی مقبولیت کے حامل کسی بڑے لیڈر کا متبادل تلاش کرنا ہوتا ہے، تو کسی نہ کسی ‘ونڈر بوائے’ کی لانچنگ کی جاتی ہے۔ حال ہی میں معروف سینئر صحافی سہیل وڑائچ صاحب نے اپنے کالم میں جس پراسرار ‘ونڈر بوائے’ کے ظہور کی نوید سنائی تھی، اب سیاسی پردے پر ابھرنے والے مناظر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی اور نہیں بلکہ اقرار الحسن صاحب ہیں۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: کیا محض ٹی وی سکرین کی مقبولیت اور جذبات سے بھرپور بیانیے کسی حقیقی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں؟ کیا وہ شخص جو اپنی ٹیم کو ‘راج’ نہ کروا سکا، وہ ایک پوری قوم کو ‘عوام راج’ کے خواب دکھانے کا اہل ہے؟
اقرار الحسن کی سیاسی عقل اور شعور کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ انھوں نے اپنی جماعت کا نام ‘عوام راج’ رکھا ہے، حالانکہ جمشید دستی پہلے ہی ‘عوامی راج’ کے نام سے پارٹی چلا رہے ہیں۔ جس شخص کا علم اتنا محدود ہو کہ اسے اپنی جماعت کے نام کے لیے بھی دوسروں کے نام کا سہارا لینا پڑے، وہ کروڑوں لوگوں کی تقدیر کا فیصلہ کیسے کرے گا؟ یہ تو وہی بات ہوئی کہ نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ صحافتی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ ایک ایسا شخص جو ‘بلیک میلر’ کے طور پر مشہور ہوا، اسے اچانک مسیحا بنا کر کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟ ‘سرِ عام’ کے نام پر انھوں نے جتنے لوگوں کو ‘بے نقاب’ کرنے کا دعویٰ کیا، حیرت انگیز طور پر ان میں سے کسی ایک کا کاروبار بھی مستقل بند نہ ہو سکا، البتہ موصوف کے اپنے ذاتی کاروبار اور بینک بیلنس میں دن دگنی رات چوگنی ترقی ہوتی گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب صرف اتفاق ہے یا اس کے پیچھے بلیک میلنگ کی وہ کہانیاں ہیں جن کا چرچا زبان زدِ عام ہے؟
کسی بھی انسان کے اخلاص اور اس کی قیادت کی صلاحیت کا سب سے بڑا گواہ اس کا اپنا ماضی اور اس کے قریبی ساتھی ہوتے ہیں۔ اقرار الحسن کا پروگرام ’’سرِ عام‘‘ جس شہرت اور بلندی پر پہنچا، وہ کسی ایک فرد کا کمال نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے درجنوں پروڈیوسرز، کیمرہ مینوں اور ریسرچرز کی انتھک محنت شامل تھی۔ لیکن تضاد کی انتہا دیکھیے کہ برسوں گزر جانے کے بعد بھی آج تک اس ٹیم کا کوئی ایک رکن بھی عوامی سطح پر اپنی پہچان نہ بنا سکا۔ جہاں ٹیم کے مخلص ساتھی گمنامی کی دھول چاٹتے رہے، وہاں موصوف کے ذاتی کاروبار ملک بھر میں پھیلتے گئے اور ان کی اپنی زندگی شاہانہ تعیش اور چکا چوند کا نمونہ بن گئی۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص اپنے ان ساتھیوں کو ان کی محنت کا جائز کریڈٹ نہ دے سکا جنھوں نے اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا، وہ قوم کے ساتھ کتنا مخلص ہوگا؟اخلاص کے اس فقدان کی ایک اور واضح مثال ان کے اپنے خاندان کی برانڈنگ ہے۔ موصوف کے صاحبزادے کو تو الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ہر گھر میں پہنچا دیا گیا، لیکن کیا کوئی ‘سرِ عام’ کی ٹیم کے کسی ایک رکن کے بچے کا نام بتا سکتا ہے؟ کیا ان کے بچوں کا حق نہیں تھا کہ انھیں بھی وہی مواقع ملتے جو اقرار صاحب کے اپنے بچے کو ملے؟ یہ رویہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہاں صرف ‘اپنی ذات’ اور ‘اپنے خاندان’ کی ترقی پیشِ نظر ہے، نہ کہ ان لوگوں کی جو آپ کی کامیابی کی بنیاد بنے۔ جو شخص اپنی چھوٹی سی ٹیم میں انصاف قائم نہ کر سکا، وہ کروڑوں کی آبادی والے ملک میں ‘عوام راج’ کیسے قائم کرے گا؟
آج جب پنجاب میں ‘کالے قوانین’ کا راج ہے، جہاں سانس لینے پر بھی پہرے بٹھا دیے گئے ہیں اور ذرا سی سیاسی جنبش پر گرفتاریاں معمول بن چکی ہیں، وہاں ایک مخصوص شخص کو سیاسی چھتری فراہم کرنا اور اسے پارٹی بنانے کی خصوصی چھوٹ دینا کئی شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ پلانٹڈ ‘ونڈر بوائے’ دراصل مخصوص اشرافیہ اور گملوں میں اگنے والی سیاست کا ایک نیا مہرہ ہے جسے صرف ووٹ بینک کو تقسیم کرنے اور عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے لایا گیا ہے۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ایک طرف مصدق ملک کہتے ہیں کہ ‘کون سا ونڈر بوائے؟ وہ جو کام کرنا چاہتا ہے وہ تو ہم خود ہی کر دیں گے’، اور دوسری طرف یہی ونڈر بوائے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنی ہی حمایتی حکومت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ ‘عوام کو سستی بجلی اور پٹرول دیا جائے’۔ جناب! آپ حکومت میں ہو کر مطالبہ کس سے کر رہے ہیں؟ یہ نورا کشتی اب پرانی ہو چکی ہے اور عوام اب اس مصنوعی اداکاری کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
