Baaghi TV

ٹرمپ، معدنیات اور مشرقِ وسطیٰ ،تحریر : علی ابن ِسلامت

پاکستانی حکام بارہا دعویٰ کر چکے ہیں کہ پاکستان کے پاس 60 کھرب ڈالر کی نایاب معدنیات موجود ہیں۔ التجا ہے کہ دعویٰ کرنے والے حکمرانوں کی طرح آپ نے یہ نقطہ یاد ر کھنا ہے کیونکہ عنقریب پاکستان کے 60 کھرب ڈالر اور بلوچستان ، خیبر پختونخواہ ، پنجاب ، سندھ حتی کہ کشمیر کے نوجوانوں کے مستقبل کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے۔ میں آپ کو چند اسٹرٹیجک معاملات کی سوجھ بوجھ رکھنے والوں کے حوالے دے کر بات سمجھاتا ہوں
حنا ربانی کھر ایک پاکستانی سیاست دان ہیں، جو پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِ خارجہ اور پہلی خاتون رکن اسمبلی رہیں جو قومی بجٹ پیش کرنے کا اعزاز رکھتی ہیں، ان کے سیاسی قد کاٹھ کی وجہ سے ان کو جانا جاتا ہے کیونکہ وہ سابق گورنر غلام مصطفیٰ کھر کی بھتیجی ہیں، سال 2002 میں مظفر گڑھ سے رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئیں تھیں لہذا طویل سیاسی کیرئیر کی وجہ سے ان کے تجزیہ ، بیانات اور خبروں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر مستند سمجھا جاتا ہے
گزشتہ روز حنا ربانی کھر نے ایک سلجھے ہوئے انداز میں الجھا ہوا بیان دیا جس نے مجھے اور چند تاریخی پسِ منظر پر نظر رکھنے والوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا، میں حیران تھا کہ پیپلز پارٹی سے بڑے قد کے سیاستدان ہمیشہ بڑی بات پر توجہ مرکوز کرواتے ہیں لیکن ان کو نظر انداز کیا جاتا ہے، یہ بیان اس لیے بھی اہم تھا کہ اس میں پاکستان کی تمام معدنیا ت اور مستقبل کی پالیسیوں کا نچوڑ موجود تھا، ان کا یہ تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا پاکستان کی تعریف کرنا پاکستان کی خوش قسمتی ہے۔ دوسری جانب آج ایک اور چونکا دینے والی خبر سامنے آئی، پاکستان دفتر خارجہ کیمطابق امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ میں وزیر اعظم شہباز شریف کو شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

میں پریشان ہوں کہ یہ تعریفیں ہمیشہ نقصان دیتی ہیں ، تاریخ کے اوراق اٹھا کر دیکھیں تو جب جب امریکہ نے تعریف کی ہمیں مشکل حالات اور امتحان میں ڈالا گیا۔ آج ٹرمپ اگر تعریف کر رہے ہیں تو یقیناً ہمیں بہت بڑی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ موجودہ دور میں ٹرمپ غزہ پر حکمرانی، ایران پر چڑھائی، کمبوڈیا پر قبضے ، وینزویلا پر حکومت ، گرین لینڈ کی ملکیت اور درجنوں امریکی مفادات کی پالیسیوں پر کام شروع کر چکا ہے۔
سولہ جنوری 2025 کو ایک امریکی جریدے نے خود لکھا تھا کہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں ایک مستقل پیٹرن یہ ہے کہ وہ غیر ملکی بغاوتوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے مگر فیصلہ کن وقت پر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ امریکا کی وعدہ شکنی،بغاوت پر اکسانا، پھر پیچھے ہٹ جانا ہے۔

چیچنیا ، بوسنیا، ہوائے، عراق، ہنگری، کردستان، شام اور اب ایران تک، تاریخ گواہ ہے کہ امریکی قیادت آزادی اور حمایت کے بلند بانگ دعوے تو کرتی ہے، لیکن عملی طور پر اپنے اسٹریٹجک مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے ان تحریکوں کو تنہا چھوڑ دیتی ہےجس کا خمیازہ لاکھوں جانوں، مہاجرت اور تباہی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ خدشہ ہے کہ ہمیں بھی ایران، افغانستان ، بھارت کے سامنے تنہا نہ کر دیا جائے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ سُپر پاور کی تعریفوں پر ننگے پاؤں ناچنے سے پہلے حنا ربانی کھر جیسی خواتین سے حکومت کو مدد ضرور لے لینی چاہیے۔ ماضی گواہ ہے کہ 1991میں صدر جارج بش نے عراقی عوام کو صدام حسین کے خلاف اٹھنے کی ترغیب دی۔امریکی اتحادی افواج نے عراق میں بغاوت پر اکسانے والے پمفلٹس بھی گرائے۔۔بغاوت کے عروج پر عراق کے 18 میں سے 14 صوبے حکومتی کنٹرول سے نکل گئے تھے۔اس کے باوجود امریکا نے باغیوں کی عملی مدد سے انکار کیا اور صدام کو انہیں کچلنے دیا۔اس کریک ڈاؤن میں 50 ہزار سے زائد افراد مارے گئے اور 15 لاکھ کرد بے گھر ہوئے۔

یہی کام آج مڈل ایسٹ میں امریکہ کر رہا ہے لیکن شاید سمجھدار سمجھنے سے قاصر ہیں یا پھر سونے کے انڈے کے چکر میں مرغی ذبح کر رہے ہیں۔ جنگ تو جنگ معدنیات نکالنے کے منصوبوں کے ذریعے پورے پورے خطے پر قابض ہو رہا ہے۔ جہاں بس نہ چلے وہاں صدر اٹھا لیے جاتے ہیں۔ زمانہ جانتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ دنیا بھر میں سٹریٹیجک معدنیات کے حصول کے لیے چین کے مقابلے پر صف آرا ہے۔

جب جب ہماری تعریفیں شروع ہوئیں مخالفین زیادہ ہوئے، بجا کہ مئی 2025 کی بھارت جنگ کے بعد بہت سے لوگ پاکستان کے شیدائی ہیں۔ مگر حیران کن طور پر چین کے بعد امریکہ بھی بلوچستان کی معدنیات کے میدان میں شامل ہو چکا ہوا ہے۔ چین پہلے ہی چاغی میں معدنیات کی کان کنی کر رہا ہے، 11 دسمبر 2025 کو بتایا گیا کہ امریکہ نے بھی ریکوڈک منصوبے میں بھاری سرمایہ کاری کرے گا ۔ امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے بتایا تھا کہ امریکہ کا ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایکسم) ریکوڈک پروجیکٹ میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔بتا یا گیا تھا کہ آنے والے برسوں میں سرمایہ کاری بڑھ کر دو ارب ڈالر ہو جائے گی جس سے چھ ہزار امریکیوں اور ساڑھے سات ہزار پاکستانیوں کو روزگار ملے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا بلوچستان کا مزدور اور پسماندہ شخص روزگار کا مستحق ہو گا؟

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ریکوڈک کیا ہے ،ریکوڈک دراصل بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع کان ہے جس کا شمار دنیا میں تانبے اور سونے کی بڑی کانوں میں ہوتا ہے۔ یہ کان گوادر سے آٹھ سو کلومیٹر اور کراچی سے تقریباً 13 سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں تک رسائی دشوار گزار علاقے کے باعث بےحد مشکل ہے۔ ریکوڈک کا منصوبہ دہائیوں پرانا ہے مگر اس دوران قانونی تنازعات اور سکیورٹی خدشات کی بنا پر اس پر باقاعدہ کام شروع نہیں ہو سکا۔ حقیقت ہے کہ عسکریت پسندوں نے بلوچستان میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو بارہا نشانہ بنایا جس کی وجہ ہے کہ یہاں غیر ملکی سرمایہ کار پیسہ لگانے سے گریز کرتے رہے ہیں۔

ابھی تک ریکوڈک منصوبے میں کان کنی کے حقوق بیرک گولڈ کمپنی کے پاس ہیں۔ اس کمپنی کا صدر دفتر کینیڈا کے شہر اونٹاریو میں واقع ہے اور یہ دنیا بھر میں تانبے اور سونے کی کان کنی میں مہارت رکھتی ہے ۔بیرک گولڈ ریکوڈک کان میں50 فیصد حصے کی مالک ہے جب کہ 25 فیصد پاکستان کی وفاقی حکومت اور بقیہ 25 فیصد بلوچستان کی صوبائی حکومت کے پاس ہے۔

چین ریکوڈک کان میں براہِ راست شراکت دار نہیں مگر چاغی ضلعے ہی میں واقع تانبے کی ایک اور کان سینڈک میں چینی کمپنی ایم سی سی کھدائی کر رہی ہے۔ ماضی میں یہی چینی کمپنی ریکوڈک میں بھی دلچسپی رکھتی تھی مگر یہ بیرک گولڈ کے پاس چلا گیا تھا ۔ چین دنیا بھر میں پیدا ہونے والا 54 فیصد تانبہ استعمال کرتا ہے۔جبکہ امریکہ ہر سال آٹھ ہزار ٹن سٹریٹیجک معدنیات درآمد کرتا ہے جن کا 70 فیصد حصہ چین سے آتا ہے۔ امریکہ کو اسی بات کی تشویش ہے کہ اگر چین اپنی سپلائی روک دے تو اس کی ہائی ٹیک امریکی صنعت بحران کا شکار ہو جائے گی۔ امریکہ اپنی صنعت کو بحران سے بچانے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہو جاتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ امریکی صدر کی تعریفیں اسی دورِ حکومت میں بہت بڑی مشکلات میں ڈالنے جا رہی ہیں۔لہذا اب سوچنے کا وقت ہے کہ ہمیں اپنا معاشی قبلہ کونسا رکھنا ہے ۔

نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

More posts