Baaghi TV

انجمن ترویجِ زبان و ادب کا پہلا یوم تاسیس،تحریر:یاسمین اختر طوبیٰ

ادب کی تاریخ میں بعض لمحات محض تاریخ کے اوراق تک محدود نہیں رہتے بلکہ روایت، شناخت اور فکری تسلسل کی علامت بن جاتے ہیں۔ انجمن ترویجِ زبان و ادب کے قیام کو مکمل ہونے والا پہلا برس بھی ایسا ہی ایک یادگار اور بامعنی لمحہ تھا، جسے انجمن کے اراکین نے محبت، وقار اور اعلیٰ ادبی شعور کے ساتھ منایا۔ اولین یومِ تاسیس کی یہ تقریب دراصل لفظ، احساس اور رفاقت کا جشن تھی، جہاں قلم نے دلوں سے مکالمہ کیا اور ادب نے روحوں کو یکجا کر دیا۔

تقریب کا آغاز شکرگزاری، دعا اور اس پختہ عزم کے ساتھ ہوا کہ انجمن ترویجِ زبان و ادب اردو زبان و ادب کے فروغ کا وہ چراغ ہے جو اخلاص، محنت اور فکری دیانت سے روشن کیا گیا ہے۔ اسی روحانی فضا میں محمد اویس کی دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کرتی حمد و نعت پیش کی گئی، جس نے انجمن کو روحانی و نورانی حرارت سے سرور بخشا۔ ان کی مترنم آواز، خلوصِ عقیدت اور اثرانگیز انداز نے حاضرین کے دلوں کو ذکرِ الٰہی سے گرمایا اور محفل کو روحانی سکون سے ہمکنار کیا۔

اس موقع پر انجمن کی بانی و سرپرست پارس کیانی کو پُرخلوص خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جن کے فکری وژن، گہرے ادبی شعور اور سنجیدہ رہنمائی نے اس خواب کو عملی صورت عطا کی۔ ان کا قلم اور ان کی قیادت انجمن کی فکری بنیاد اور سمت کا تعین کرتے ہیں۔منتظم اعلیٰ سلیم خان اور بانی و سرپرست پارس کیانی نے تقریب میں موقع کی مناسبت سے روح کی غذایت کا اہتمام خوبصورت گیتوں کے انتخاب کی صورت میں کیا اور ثابت کیا کہ ایسے برمحل انتخاب محفل کو توازن، لطافت اور داخلی سکون عطا کرتے ہیں۔

منتظمِ اعلیٰ سلیم خان کی خدمات کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا، جن کی بے لوث قیادت، ادب نوازی، انسان دوستی اور مسلسل عملی تعاون نے انجمن کو استحکام بخشا۔ وہ محض نظم و نسق کے نگران نہیں بلکہ محبتوں کے سفیر اور ادب کے سچے خادم ہیں۔ انہوں نے بھی روح کو سرشار کرنے والے گیتوں کے انتخاب سے انجمن کی خوبصورتی میں اضافہ کیا۔

تقریب میں سابق منتظمِ ثانی احمد منیب کا تذکرہ نہایت عقیدت اور احترام سے کیا گیا، جو اپنی نجی مصروفیات کے باعث اس وقت انجمن سے رخصت پر ہیں۔ ان کی خوش اخلاقی، علمی ذوق اور ادبی وابستگی کو انجمن کی تاریخ کا قیمتی حوالہ قرار دیا گیا۔انتظامی ٹیم میں منتظمہ عمارہ کنول چوہدری، منتظم خان عبداللہ ایلیاء اور منتظمہ یاسمین اختر طوبیٰ کی منظم، مخلص اور فعال خدمات کو انجمن کے تسلسل اور استحکام کی ضمانت قرار دیا گیا۔ ان کی انتھک محنت نے انجمن کو ایک مربوط، شائستہ اور باوقار ادبی پلیٹ فارم بنایا۔فعال اراکینِ انجمن کی خدمات تقریب کا روشن اور قابلِ فخر باب رہیں۔ ڈاکٹر ارشاد خان کو قادرالکلام شاعر و نثر نگار کی حیثیت سے فکری گہرائی اور ادبی وقار کی علامت قرار دیا گیا۔ خواجہ ثقلین سمیط کی بذلہ سنجی، شعری مہارت اور لفظوں کے برمحل استعمال نے محفل کو تازگی اور توانائی بخشی۔ رانا طارق بلال کے روزانہ سلامتی اور خیرسگالی پر مبنی پیغامات کو روحانی خوشبو سے تعبیر کیا گیا۔ عبدالرحمان واصف کے کلام میں سچائی اور اثر پذیری کو نمایاں طور پر سراہا گیا، جبکہ سید عارف لکھنوی کی حمد، نعت اور منقبت کو عقیدت اور فن کا حسین امتزاج قرار دیا گیا۔

ڈاکٹر شگفتہ کی غزل گوئی کو نسائی حساسیت اور شعری لطافت کی نمائندہ کہا گیا۔ پروفیسر محمد صدیق بزمی کی علمی بصیرت، ادبی وقار اور وقیع انتخاب کو انجمن کا قیمتی علمی سرمایہ قرار دیا گیا۔ ثاقب قریشی، چٹکلوں کے بادشاہ، نے اپنی بذلہ سنجی سے محفل میں مسکراہٹیں بکھیر دیں۔ ملک عدیل عاصم کی ادبی خدمات، محمد ساجد کی سنجیدہ اور معیاری ادبی ترسیلات، محمد عتیق الرحمن کی علمی جستجو اور فضل کریم کے قرآن و سنت پر مبنی اصلاحی و فکری پیغامات کو بھی بھرپور انداز میں سراہا گیا۔

تقریب کا ایک نہایت قابلِ تحسین اور حوصلہ افزا پہلو انجمن کی جانب سے بہترین کارکردگی کے حامل اراکین کو اسنادِ اعزاز جاری کرنے کی روایت کا آغاز تھا۔ اس اقدام کو اراکین کی حوصلہ افزائی، ادبی خدمات کے اعتراف اور مثبت مسابقت کے فروغ کی عمدہ مثال قرار دیا گیا۔اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ انجمن ترویجِ زبان و ادب آئندہ بھی شائستگی، برداشت، اخلاص اور فکری دیانت کے ساتھ اردو زبان و ادب کی خدمت کرتی رہے گی۔ دعا کی گئی کہ یہ ادبی قافلہ یوں ہی علم، محبت اور خیر بانٹتا رہے اور آنے والے برس اس کی تاریخ میں مزید روشن اور یادگار ابواب کا اضافہ کریں۔آمین ثم آمین یا رب العالمین

More posts