Baaghi TV

عزم قربانی اور امید کا دن،تحریر:آمنہ خواجہ

ہر سال 5 فروری پاکستان سمیت دنیا بھر میں یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں بلکہ کشمیری عوام کے ساتھ اخلاقی انسانی اور تاریخی یکجہتی کے عہد کی تجدید ہے۔ اس دن پاکستانی قوم ایک آواز بن کر یہ پیغام دیتی ہے کہ کشمیر کے عوام اپنے حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں تنہا نہیں۔
کشمیر ایک خوبصورت وادی ہی نہیں، بلکہ قربانیوں صبر اور استقامت کی علامت ہے۔ دہائیوں سے کشمیری عوام ظلم جبر اور ناانصافی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی روزمرہ زندگی خوف پابندیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں میں جکڑی ہوئی ہے مگر اس کے باوجود ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ ماں کی گود اجڑتی ہے بہن کی آنکھ اشکبار ہوتی ہے مگر آزادی کی خواہش زندہ رہتی ہے۔

یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق کا سنگین مسئلہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں آج بھی کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی گواہ ہیں جن پر عملدرآمد عالمی ضمیر کی ذمہ داری ہے۔ بدقسمتی سے عالمی برادری کی خاموشی کشمیری عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ سفارتی اخلاقی اور سیاسی سطح پر کشمیریوں کی حمایت کی ہے۔ 5 فروری کو ملک بھر میں ریلیاں سیمینارز دعائیہ اجتماعات اور انسانی زنجیریں بنا کر یہ واضح پیغام دیا جاتا ہے کہ کشمیر پاکستان کے دل کی دھڑکن ہے۔ تعلیمی اداروں میں تقاریب کے ذریعے نئی نسل کو کشمیر کی تاریخ جدوجہد اور قربانیوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم محض جذباتی نعروں تک محدود نہ رہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کو مؤثر سفارت کاری، میڈیا اور عالمی فورمز پر بھرپور انداز میں اجاگر کریں۔ قلم زبان اور دلیل کو اپنا ہتھیار بناتے ہوئے مظلوم کشمیریوں کی آواز دنیا تک پہنچائیں۔آخر میں یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں امید دلاتا ہے کہ اندھیری رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو سحر ضرور آتی ہے۔ وہ دن بھی آئے گا جب کشمیر میں آزادی کی صبح طلوع ہوگی اذیتوں کا خاتمہ ہوگا اور وادی ایک بار پھر امن و خوشحالی کا گہوارہ بنے گی۔ہم کشمیریوں کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے۔

More posts