اسلام آباد میں مسجد کے اندر پیش آنے والا حالیہ دہشت گردی کا واقعہ پوری قوم کے لیے گہرے صدمے اور تشویش کا باعث ہے۔ دارالحکومت، جو ریاستی رِٹ، سکیورٹی اور نظم و ضبط کی علامت سمجھا جاتا ہے، وہاں عبادت گاہ کو نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے دشمن اب کسی حد تک جانے سے گریز نہیں کر رہے۔
حکومتی ذرائع اور سکیورٹی اداروں کی ابتدائی معلومات کے مطابق اس دہشت گردانہ کارروائی کے تانے بانے افغانستان اور بھارت سے جا ملتے ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف جاری پراکسی وار کا تسلسل ہے، جس کا مقصد ملک میں خوف، عدم استحکام اور انتشار پیدا کرنا ہے۔
یہ حقیقت اب عالمی برادری سے پوشیدہ نہیں رہنی چاہیے کہ افغانستان کی سرزمین طویل عرصے سے دہشت گرد عناصر کے استعمال میں رہی ہے۔ ماضی میں بھی وہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں ہوتی رہی ہیں اور حالیہ برسوں میں ایک بار پھر ان سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ افغانستان خود دہشت گردی کی آگ میں جلتا رہا ہے، مگر افسوس کہ اس کے اثرات ہمسایہ ممالک تک پھیل رہے ہیں۔
اسی طرح بھارت کا کردار بھی مسلسل سوالات کی زد میں ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارتی مداخلت کے الزامات کوئی نئی بات نہیں۔ اسلام آباد میں مسجد جیسے مقدس مقام کو نشانہ بنانا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ دشمن قوتیں مذہبی جذبات کو بھی استعمال کر کے پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔
یہ واقعہ صرف ریاستی اداروں کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی دنیا کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ اگر دہشت گردی واقعی ایک عالمی مسئلہ ہے تو پھر اس کے خلاف ردعمل بھی عالمی سطح پر یکساں اور غیرجانبدار ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی اداروں اور طاقتوں کو چاہیے کہ وہ افغانستان کو واضح طور پر پابند کریں کہ اس کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، اور بھارت کو یہ پیغام دیا جائے کہ خطے میں عدم استحکام کی پالیسی ناقابلِ قبول ہے۔
پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے چکا ہے۔ ہزاروں معصوم شہری، نمازی، علما اور سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ اب مزید صبر کا مظاہرہ ممکن نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری محض تشویش کے اظہار سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے تاکہ پاکستان کے بے گناہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
اسلام آباد کی مسجد میں ہونے والا یہ حملہ ایک واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اگر دشمن عناصر کو بروقت اور مؤثر انداز میں لگام نہ دی گئی تو اس کے نتائج پورے خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر اپنے شہریوں کے خون پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔
