Baaghi TV

فتنہ الخوارج ،فتنہ الہندوستان کے خاتمے کیلیے قومی یکجہتی کی ضرورت،تحریر:جان محمد رمضان

pak army

وطنِ عزیز اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں داخلی و خارجی سازشوں کی گرد آلود ہوائیں ہمارے عزم و استقلال کو آزمانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان میں سر اٹھانے والے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان جیسے عناصر محض چند گمراہ گروہوں کا نام نہیں بلکہ ایک منظم سوچ اور بیرونی سرپرستی کا نتیجہ ہیں، جن کا مقصد ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا اور قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنا ہے۔ ایسے میں وقت کا تقاضا ہے کہ پوری قوم ذاتی، سیاسی اور لسانی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک پرچم تلے مجتمع ہو جائے۔

یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض سیکیورٹی فورسز، پاک فوج، پولیس یا ایف سی کی جنگ نہیں بلکہ یہ ہر پاکستانی کی جنگ ہے۔ جب تک قوم کا ہر فرد اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کرے گا، تب تک اس ناسور کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ دہشت گردی ایک ایسا عفریت ہے جو معصوم جانوں کو نگلتا اور ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی سازش کرتا ہے۔ اس کے مقابلے کے لیے صرف بندوق نہیں بلکہ شعور، اتحاد اور عزم کی بھی ضرورت ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کامیابی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل اور غیر متزلزل عمل درآمد سے مشروط ہے۔ یہ منصوبہ محض ایک کاغذی دستاویز نہیں بلکہ قومی سلامتی کا جامع لائحۂ عمل ہے، جس پر مؤثر عمل ہی ملک کو پائیدار امن کی منزل سے ہمکنار کر سکتا ہے۔ خصوصاً خیبر پختونخوا میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے بھی یہی حکمتِ عملی بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اور اس ضمن میں حالیہ اجلاسوں کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اندر ہونے والی سپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ حالیہ ترلائی امام بارگاہ حملے کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملہ آور کو افغانستان میں دہشت گردانہ تربیت فراہم کی گئی۔ یہ عناصر دراصل خطے میں بدامنی پھیلا کر پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ فتنہ الہندوستان کو بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی کا دشمن قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ یہ عناصر احساسِ محرومی کے نعرے کی آڑ میں خونریزی کا بازار گرم کرنا چاہتے ہیں، مگر بلوچستان کی باشعور عوام اب ان کے چہروں کو پہچان چکی ہے۔تین برس قبل روزانہ 15 سے 20 ملین لیٹر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ ایک کھلا راز تھی، جس سے حاصل ہونے والی خطیر رقوم دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہوتی تھیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس غیر قانونی دھندے کا خاتمہ دہشت گردوں کی مالی شہ رگ کاٹنے کے مترادف ہے، جو ریاستی رٹ کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے گڈ گورننس کو واحد اور مؤثر ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ شفافیت، انصاف، میرٹ اور عوامی خدمت کا نظام ہی وہ بنیاد ہے جس پر امن کا مضبوط قلعہ تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ قومیت، لسانیت یا صوبائیت کی بنیاد پر تقسیم دراصل دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دیتی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہماری کوئی بھی سیاسی یا مذہبی سوچ ہو، دہشت گردی کے خلاف ہمیں متحد ہونا ہے، کیونکہ ہمارا بیانیہ صرف اور صرف پاکستان ہے۔تعلیمی اداروں کے دوروں سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ نوجوان نسل پاک فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہے۔ کوئی بھی منفی بیانیہ فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور نہیں کر سکتا۔ سیکیورٹی ذرائع نے اپوزیشن لیڈر کے حالیہ بیان کو افسوسناک اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ سیاست اور فوج دو جدا دائرے ہیں؛ بات چیت سیاسی جماعتوں کا استحقاق ہے جبکہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ قانونی اور عدالتی معاملات کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق عدالتیں ہی کریں گی۔جس طرح قوم نے معرکۂ حق میں متحد ہو کر بھارت کو شکست دی، اسی طرح آج بھی اتحاد و اتفاق سے دہشت گردی کے فتنے کو نیست و نابود کیا جا سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں اپنے اختلافات بھلا کر ایک نصب العین پر جمع ہو جائیں تو کوئی سازش ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذاتی مفادات، سیاسی کشمکش اور گروہی تعصبات سے بلند ہو کر ریاست اور آئین کے ساتھ کھڑے ہوں۔ فتنہ الخوارج ہو یا فتنہ الہندوستان، ان کا خاتمہ صرف طاقت سے نہیں بلکہ قومی شعور، یکجہتی اور گڈ گورننس سے ممکن ہے۔پاکستان کی بقا، سلامتی اور ترقی اسی میں مضمر ہے کہ ہم سب مل کر یہ عہد کریں ،نہ تقسیم ہوں گے، نہ جھکیں گے، اور نہ ہی دہشت گردی کے آگے سر تسلیم خم کریں گے

More posts