21 فروری محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں، یہ شناخت، شعور اور ثقافتی بقا کا دن ہے۔ ماں بولی کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ زبان صرف بولنے کا وسیلہ نہیں بلکہ قوموں کی تاریخ، تہذیب اور اجتماعی حافظے کی محافظ ہوتی ہے۔ جس قوم کی زبان کمزور پڑ جائے، اس کی تہذیبی بنیادیں بھی لرزنے لگتی ہیں۔
پنجاب کی سرزمین صدیوں سے علم و ادب، صوفیانہ فکر اور ثقافتی رنگا رنگی کی امین رہی ہے۔ پنجابی زبان نے محبت، مزاحمت، حکمت اور روحانیت کے ایسے نقوش چھوڑے جو برصغیر کی تاریخ میں سنہری حروف سے درج ہیں۔ مگر افسوس کہ اپنے ہی گھر میں یہ زبان اجنبی بنتی جا رہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں پنجابی کو وہ مقام حاصل نہیں جو اس کا حق ہے۔ بچے اسکول میں اپنی مادری زبان بولنے سے جھجکتے ہیں، اور والدین اسے ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھنے لگے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف لسانی بلکہ فکری بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔
ایسے ماحول میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا پنجابی زبان، ثقافت اور تہذیب کے فروغ کے حوالے سے حکومتی سطح پر سنجیدہ کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب اس مسئلے کو محض ثقافتی سرگرمی نہیں بلکہ پالیسی کے دائرے میں دیکھا جا رہا ہے۔ اگر پنجابی کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنایا جاتا ہے تو یہ نہ صرف زبان کی بقا بلکہ نئی نسل کی شناخت کے تحفظ کی ضمانت ہوگا۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اس حوالے سے واضح فیصلہ دے چکی ہے کہ تعلیمی اداروں میں پنجابی کو پڑھایا جائے۔ عدالتِ عظمیٰ کا یہ مؤقف دراصل آئینی تقاضوں اور ثقافتی ذمہ داری کا عکاس ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ اس فیصلے پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد کب ہوگا؟
گزشتہ برس 21 فروری 2025 کو مسلم لیگ (ن) کی رکن صوبائی اسمبلی رخسانہ کوثر نے ماں بولی کے عالمی دن کے موقع پر پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ پنجابی زبان کو اسکولوں کے نصاب میں شامل کیا جائے، پنجابی کتب کی اشاعت کو فروغ دیا جائے اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں پنجابی کو مناسب مقام دیا جائے۔ یہ قرارداد محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ برسوں سے جاری مطالبے کی آئینی صورت تھی۔ اگر اس قرارداد پر عملی اقدامات کیے جائیں تو پنجاب کی لسانی تاریخ ایک نئے باب میں داخل ہو سکتی ہے۔
مجھے آج بھی 21 فروری 2014 کی وہ دوپہر یاد ہے جب لاہور کی شملہ پہاڑی پر پنجابی تنظیموں کے زیر اہتمام مظاہرے میں شرکت کا موقع ملا۔ مختلف جماعتوں، ادبی حلقوں اور سماجی تنظیموں کے نمائندے ایک ہی مطالبہ دہرا رہے تھے: پنجابی کو اس کا جائز مقام دیا جائے۔ وہ کوئی سیاسی اجتماع نہیں تھا بلکہ شناخت کی جنگ تھی۔ اس تحریک سے وابستہ تمام تنظیمیں اور افراد قابلِ قدر ہیں کہ انہوں نے مسلسل اور پُرامن انداز میں یہ مطالبہ زندہ رکھا۔
اصل سوال یہ نہیں کہ پنجابی کو کیوں پڑھایا جائے، بلکہ سوال یہ ہے کہ اسے کیوں نہ پڑھایا جائے؟ دنیا کی مہذب اقوام اپنی مادری زبان میں تعلیم کو بنیادی حق سمجھتی ہیں۔ ماہرینِ تعلیم اس امر پر متفق ہیں کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہو تو بچے کی ذہنی نشوونما بہتر ہوتی ہے، تخلیقی صلاحیتیں ابھرتی ہیں اور اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ پنجابی کو نصاب کا حصہ بنانا کسی دوسری زبان کے خلاف اقدام نہیں بلکہ لسانی توازن کی بحالی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ زبان کا فروغ صرف حکومتی نوٹیفکیشن سے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے لیے معاشرتی قبولیت، ادبی سرگرمی، نصابی تیاری، اساتذہ کی تربیت اور میڈیا کا مثبت کردار ضروری ہے۔ اگر پنجابی میں معیاری نصاب، جدید ادب، بچوں کی کہانیاں اور سائنسی مواد تیار کیا جائے تو یہ زبان نئی نسل کے لیے کشش بھی پیدا کرے گی اور افادیت بھی۔
آج جب ماں بولی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے محض ثقافتی تقریب تک محدود نہ رکھا جائے۔ یہ دن ہمیں اجتماعی احتساب کا موقع دیتا ہے۔ کیا ہم اپنی زبان کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنی آئندہ نسل کو اس کی اصل شناخت سے جوڑ رہے ہیں؟
امید کی کرن موجود ہے۔ حکومتی سطح پر اقدامات، عدالتی فیصلے، اسمبلی کی قراردادیں اور سماجی تحریکیں اس بات کی علامت ہیں کہ شعور بیدار ہو رہا ہے۔ اگر نیت اور پالیسی میں تسلسل رہا تو وہ دن دور نہیں جب پنجاب کے تعلیمی اداروں میں پنجابی باوقار انداز میں پڑھائی جائے گی، بچے اسے فخر سے بولیں گے اور ماں بولی کو احساسِ کمتری نہیں بلکہ شناخت کی علامت سمجھا جائے گا۔
ماں بولی کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زبانیں مرنے نہیں دی جاتیں، انہیں زندہ رکھا جاتا ہے — شعور سے، محبت سے اور عملی اقدامات سے۔ پنجاب کی دھرتی آج بھی بولنے کی صلاحیت رکھتی ہے، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اسے سننے اور سکھانے کا حوصلہ پیدا کریں۔
