خطے میں بگڑتی صورتحال میں افغانوں کا پاکستان سے پنگا بدنیتی کی علامت
احسان فراموش افغان اسلام آباد کی میزبانی بھول گئے،ہم ذمہ داراور زندہ قوم ہیں
مسائل کا واحد حل ڈائیلاگ،کشیدگی امن کیلئے خطرہ،محاذ آرائی بندکی جائے
تجزیہ:شہزاد قریشی
خطے کی بدلتی صورتحال اور افغانستان کے لئے ایک سنجیدہ پیغام،جنوبی ایشیاءاس وقت ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں معمولی غلط فہمیاں بھی بڑے تناز عات کو جنم دے سکتی ہیں،ایسے میں افغانستان کی موجودہ پالیسیوں اور علاقائی طرزِ عمل پر سوال اٹھنا فطری ہے، خاص طور پر پاکستان کے ساتھ تعلقات کے تناظر میںیہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان نے تاریخ کے مختلف ادوار میں افغانستان کا بھرپور ساتھ دیا، لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی سے لے کر سفارتی اور انسانی امداد تک، پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہونے کا ثبوت دیا،یہی وجہ تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد اور مذہبی و ثقافتی رشتوں پر قائم رہے،تاہم حالیہ برسوں میں ابھرتی ہوئی صورتحال تشویش ناک ہے،یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین بعض ایسے عناصر کے لئے استعمال ہو رہی ہے جو پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں،مزید برآں بھارت کے ساتھ افغانستان کی بڑھتی قربت بھی خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر رہی ہے، جس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی سلامتی سے جڑے ہوئے ہیں،افغانستان کو یہ حقیقت نظرانداز نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان ایک ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے جس کی دفاعی طاقت اور عسکری تیاری دنیا میں تسلیم شدہ ہے،اس تناظر میں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن کے لئے خطرہ بن سکتی ہے،دوسری جانب افغانستان کو درپیش اصل چیلنج اندرونی استحکام ہے،دہائیوں پر محیط جنگ، معاشی مشکلات اور سماجی مسائل اس بات کے متقاضی ہیں کہ وہ اپنی توجہ اپنے عوام، خصوصاً نوجوان نسل کی تعلیم، ترقی اور بہتر مستقبل پر مرکوز کرے،ایک مستحکم افغانستان ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت بن سکتا ہے،
آخرکار، دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں ممالک محاذ آرائی کے بجائے سفارت کاری، مکالمے اور باہمی احترام کے ذریعے اپنے اختلافات کو حل کریں کیونکہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جنگ نہیں، بلکہ تعاون ہی خطوں کو ترقی اور استحکام کی طرف لے جاتا ہے۔
