Baaghi TV

مسلم ممالک کہاں کھڑے ہیں؟ تحریر: راشد عمر اولکھ ایڈووکیٹ

نظریات یا مفادات، مذاکرات کار یا ثالث ؟ عالمی شطرنج کے کھیل میں مسلم ممالک کہاں کھڑے ہیں؟

عالمی سیاست کے ایوانوں میں دوستیوں کے نعرے بہت بلند ہوتے ہیں، مگر تاریخ کی گرد جھاڑیں تو ایک ہی سچ نمایاں ہوتا ہے: ریاستیں جذبات، مذہبی نظریات سے نہیں، مفادات سے چلتی ہیں۔ یہاں تعلقات کی بنیاد نہ نظریاتی ہم آہنگی ہوتی ہے، نہ مذہبی قربت—بلکہ سرد حساب کتاب اور قومی مفاد کا بے رحم تقاضا ہوتا ہے۔

مسلم دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی تلخ مگر واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ جہاں بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تعین میں کبھی ابہام کا شکار نہیں ہوتیں، وہیں وقت کی مسلم ریاستیں اکثر جذباتی بیانیوں، وقتی نعروں اور غیر مستقل اتحادوں میں الجھ کر اپنے طویل المدتی مفادات کو پسِ پشت ڈال دیتی ہیں۔

سرد جنگ کے ہنگاموں میں United States اور Soviet Union کی کشمکش نے دنیا کو دو بلاکس میں تقسیم کر رکھا تھا۔ Soviet–Afghan War میں پاکستان کو فرنٹ لائن ریاست بنایا گیا۔ اس وقت دوستی کے چرچے تھے، تعاون کے وعدے تھے، اور مشترکہ جدوجہد کا بیانیہ تھا۔ مگر یہ سب کسی اصولی رفاقت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ مفادات کا عارضی اشتراک تھا۔

پاکستان نے بھی اس موقع کو ایک اسٹریٹجک موقع کے طور پر استعمال کیا، مگر جیسے ہی Collapse of the Soviet Union ہوا، تعلقات کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی۔ پاکستان پر عالمی پابندیاں، نیوکلیئر پروگرام کا خاتمہ، بداعتمادی اور فاصلے—یہی اس “دوستی” کا انجام تھا۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عالمی سیاست میں مستقل کچھ نہیں ہوتا، سوائے مفادات کے۔

ایران کی داستان بھی اسی اصول کی ایک اور شکل ہے۔ ایران جو کبھی امریکہ کا قریبی اتحادی تھا، Iranian Revolution کے بعد یکسر مخالف سمت میں کھڑا ہو گیا۔ آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے نہ صرف اپنی خارجہ پالیسی بدلی بلکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کی بنیاد ہی تبدیل کر دی۔ یہ کوئی جذباتی فیصلہ نہیں تھا بلکہ نئے ریاستی مفاد کا تعین تھا—خودمختاری، اثر و رسوخ اور مزاحمت۔

ترکی اگرچہ نیٹو امریکہ اتحاد کا حصہ بنا مگر اس سب کے باوجود کمال دانشمندی سے ترکی نے نیٹو رکن ہونے کے باوجود اپنی پالیسی کو کسی ایک بلاک تک محدود نہیں رکھا۔ شام کے بحران میں اس کی مداخلت، روس کے ساتھ تعلقات، اور مغرب کے ساتھ توازن—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ کامیاب ریاستیں لچکدار ہوتی ہیں، وابستہ نہیں۔

دوسری طرف شام، عراق، یمن اور لیبیا وہ بدنصیب خطے ہیں جہاں عالمی طاقتوں کے مفادات نے ریاستی ڈھانچوں کو کمزور کر کے انہیں جنگی میدان بنا دیا۔ عراق جنگ کے بعد عراق کا بکھرنا، شام کی خانہ جنگی کا عالمی شطرنج میں بدل جانا، اور یمن کی خاموش تباہی—یہ سب اس امر کی دلیل ہیں کہ جب ریاست کمزور ہو جائے تو اس کے فیصلے اس کے اپنے نہیں رہتے۔

یہ تمام مثالیں ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہیں: کیا مسلم دنیا ہمیشہ دوسروں کے کھیل کا حصہ بنی رہے گی؟
اگر پاکستان، ایران، سعودی عرب، مصر ترکی اور قطر اپنے اختلافات سے اوپر اٹھ کر ایک مشترکہ تزویراتی بلاک تشکیل دیں تو یہ عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ توانائی کے ذخائر، جغرافیائی اہمیت، عسکری صلاحیت اور افرادی قوت—یہ سب عناصر اگر یکجا ہو جائیں تو ایک نئی طاقت ابھر سکتی ہے۔
مگر اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ وہی پرانی بیماریاں ہیں: فرقہ واریت، باہمی عدم اعتماد اور قلیل المدتی سوچ۔

حالیہ عالمی کشیدگی، خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کے تناظر میں پاکستان نے جس فعال سفارتی کردار کا مظاہرہ کیا، وہ محض روایتی بیان بازی نہیں بلکہ ایک نئی حکمت عملی کی جھلک ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی مسلسل سفارتی کاوشیں، روزانہ کی بنیاد پر رابطے، اور سعودی عرب ، قطر اور پھر ترکی کے اہم دورے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان محض ایک ردعمل دینے والی ریاست نہیں رہا بلکہ ایک "فعال ثالث” کے طور پر ابھر رہا ہے۔
اسی تسلسل میں ہمارے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب کا فوری طور پر ایران کا دورہ ایک غیر معمولی تزویراتی اشارہ تھا—یہ پیغام کہ پاکستان نہ صرف خطے کی حساسیت کو سمجھتا ہے بلکہ فوری اور مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ وہ کردار جس کو ادا کرنے کی اس سے توقع کی جا سکتی ہے۔
اگرچہ عالمی سفارت کاری میں “کریڈٹ” اکثر طاقتور ریاستیں لے جاتی ہیں، مگر یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ کشیدگی میں کمی، رابطوں کی بحالی اور جنگ بندی کی فضا پیدا کرنے میں پاکستان کی خاموش مگر مسلسل کوششیں ایک اہم عنصر بن رہی ہیں۔ اعتماد بحال ہو رہا ہے، مسلم ممالک کے درمیان بہترین تعلقات اور کوآرڈینیشن اپنا رنگ جما رہی ہے۔

یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستان کے لیے ایک تاریخی موقع موجود ہے:
وہ مسلم دنیا میں محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک "پل (bridge) اور ممکنہ "قائدانہ کردار” ادا کر سکتا ہے۔
اگر مجوزہ اسلامی بلاک حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو پاکستان کی حیثیت محض ایک رکن کی نہیں ہوگی بلکہ ایک ایسے ملک کی ہوگی جو:
مختلف بلاکس (ایران-سعودی، ترکی-عرب) کے درمیان توازن قائم کر سکتا ہے
ایٹمی طاقت ہونے کے باعث دفاعی اعتماد فراہم کر سکتا ہے
چین، امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے درمیان سفارتی پل کا کردار ادا کر سکتا ہے
یہ کردار پاکستان کو اس پوزیشن پر لا سکتا ہے جہاں وہ نہ صرف اتحاد کا حصہ ہو بلکہ اس کی سمت متعین کرنے والوں میں شامل ہو۔ اور یہ کوئی معمولی بات یا عمومی پیش رفت نہیں۔
بین الاقوامی سیاست شطرنج کی ایک بساط ہے۔ یہاں یا تو آپ چال چلتے ہیں، یا آپ پر چال چلی جاتی ہے۔
مسلم دنیا نے طویل عرصہ مہرے کا کردار ادا کیا ہے، مگر حالات بدل رہے ہیں۔
اگر ریاستیں اپنے مفادات کو سمجھتے ہوئے اجتماعی حکمت عملی اپنائیں، اور پاکستان جیسے ممالک ثالثی سے قیادت تک کا سفر طے کریں، تو ایک نیا عالمی توازن جنم لے سکتا ہے۔
اور موجودہ عالمی حالات میں، جہاں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، اگر ریاستیں اپنے انفرادی مفادات سے آگے بڑھ کر اجتماعی حکمتِ عملی اپنائیں تو ایک نیا اور زیادہ متوازن عالمی نظم تشکیل پا سکتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان اپنی عسکری صلاحیت اور اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت کے ذریعے سیکیورٹی اور علاقائی استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ سعودی عرب اپنی مالی طاقت اور سرمایہ کاری کی استعداد سے اس بلاک کو معاشی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ ترکی اپنی جغرافیائی اہمیت، دفاعی صنعت اور جنگی تجربے کے ساتھ عملی عسکری و سفارتی وزن بڑھا سکتا ہے، قطر اپنے توانائی کے وسیع وسائل اور ثالثی کی مؤثر پالیسی کے ذریعے مالی و سفارتی معاونت فراہم کر سکتا ہے، جبکہ مصر اپنی تاریخی، آبادیاتی اور جغرافیائی اہمیت کے باعث عرب و افریقی دنیا کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسی طرح ایران اپنی تزویراتی گہرائی اور علاقائی اثر و رسوخ کے ذریعے اس خطے کی جیو اسٹریٹجک تکمیل کا حصہ بن سکتا ہے۔ اگر یہ تمام عوامل ایک مربوط اور ادارہ جاتی تعاون کے فریم ورک میں یکجا ہو جائیں تو یہ اتحاد محض علامتی نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک عملی اور مؤثر تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
یہ صرف ایک امکان نہیں—یہ ایک موقع ہے۔
سوال اب بھی وہی ہے:
کیا مسلم دنیا اس موقع کو پہچان پائے گی؟
تاریخ کا اگلا باب اسی جواب کا منتظر ہے۔
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے۔
نقشِ کہن مٹ رہا ہے، نئی تقدیر کے ہاتھ میں
وقت کے ماتھے پہ لکھا اب ترا اعجاز ہے۔

More posts