Baaghi TV

بُنیانٌ مَّرصُوص،تحریر: نور فاطمہ

بُنیانٌ مَّرصُوص سے بنیادی طور پر وہ کلمہ ہے جو قرآن پاک کی سورۃ الصف کی آیت نمبر 4 میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔

إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنيَانٌ مَّرْصُوصٌ [61:4]
ترجمہ:-
"اللہ کو تو پسند ہیں وہ لوگ، جو اس کی راہ میں اس طرح صف بند ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں”

آپریشن بُنیانٌ مَّرصُوص :-
آپریشن بُنیانٌ مَّرصُوص، پاکستانی فوج کی طرف سے 2025 کے ہندوستان- پاکستان حملوں کے دوران 10 مئی 2025 کو ہندوستانی فوجی اہداف پر بڑے پیمانے پر جوابی حملے کے لیے دیا گیا نام ہے۔ یہ کارروائی 1999ء کے کارگل تنازعے کے بعد جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان سب سے سنگین کشیدگی ہے۔ یہ آپریشن اسلام آباد نے 7 سے 10 مئی تک کے ہندوستانی میزائل اور ڈرون حملوں کے "مناسب جواب” کے طور پر تیار کیا تھا۔

آپریشن سندور :-
مئی 2025 کو ہندوستان نے تین پاکستانی ہوائی اڈوں، نور خان، مرید اور شورکوٹ کے ساتھ ساتھ افغانستان میں اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ اس کا آغاز 7 مئی 2025 کو ہوا۔ بھارت نے پاکستان پر میزائل حملے کیے، جنہیں آپریشن سندور کا نام دیا گیا۔

بھارت نے یہ دعویٰ کیا کہ 22 اپریل کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں مسلح پسندوں کے حملے کے جواب میں کی گئی۔ جس میں 28 شہری، جن میں اکثر سیاحوں کی تھی، ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ ایک موقع بھارت نے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا جس کی پاکستان نے تردید کی۔ یہ واقعات، بالآخر 2025 کی پاک بھارت کشیدگی کا سبب بنے جو مسلسل کشیدگی کا باعث بنی۔

بھارت کے مطابق ان کے میزائل حملوں کا ہدف جیش محمد اور لشکر طیبہ جیسے عسکریت پسند گروہ تھے اور کسی پاکستانی فوجی تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

پاکستان کے مطابق بھارتی حملوں نے شہری علاقوں بشمول مساجد کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 31 پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے۔ مزید یہ کہ پاکستان کی فوج کے ترجمان احمد شریف چوہدری نے ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا، "ہندوستان نے اپنی بری نیت کے ساتھ میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔ جس میں نور خان، مرید اور شورکوٹ ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے”۔

اس حملے کے بعد اسلام آباد نے 33 ہلاکتوں کی اطلاع دی اور جوابی کارروائی کا عہد کیا۔ متوازی سرحد پار گولہ باری اور ڈرون حملوں نے 9 مئی تک دونوں اطراف میں کم از کم پچاس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں اور ڈرون حملے شروع ہو گئے۔

آپریشن بُنیانٌ مَّرصُوص :-
پاکستان نے 10 مئی کو باضابطہ طور پر جوابی کارروائی کا آغاز کیا جسے آپریشن بُنیانٌ مَّرصُوص کا نام دیا گیا اور اس میں بھارت کی متعدد عسکری تنصیبات نشانہ بنایا گیا۔ 10 مئی 2025 کو تقریباً 03:45 پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق، پاکستان نے فتح – II بیلسٹک میزائل اور مسلح ڈرونوں کے ساتھ آپریشن بُنیانٌ مَّرصُوص کا اعلان کیا۔

ان حملوں میں پٹھان کوٹ اور ادھم پور ہوائی اڈوں، آدم پور ایئر فورس اسٹیشن جہاں مبینہ طور پر ایس-400 بیٹری کو تباہ کیا گیا، بیاس اور ناگروٹا میں برہموس ڈپو اور اڑی اور راجوری میں بریگیڈ کی سہولیات پر پاک فضائیہ کی طرف سے حملے کیے گئے۔

جالندھر میں آدم پور-400 یونٹ پر مبینہ طور پر پاک فضائیہ کے جے ایف-17 لڑاکا طیاروں نے ہائپرسونک میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے کیے تھے، ان حملوں کا مقصد ہندوستان کے جدید ترین فضائی دفاعی ساز و سامان میں سے ایک کو بے اثر کرنا تھا۔

پاکستان سائبر یونٹ نے دعوہ کیا کہ انھوں نے ہندوستان کے شمالی پاور گرڈ کے حصوں کو غیر فعال کر دیا ہے اور متعدد سرکاری ویب سائٹوں کو ہیک کر لیا ہے۔ تاہم وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کے مشترکہ بیان کے مطابق ہندوستانی پاور گرڈ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ ہندوستانی حکام نے متعدد اڈوں پر "تیز رفتار میزائل حملوں” کا اعتراف کیا لیکن کہا آنے والے زیادہ تر گولہ بارود کو روک لیا گیا، جس سے زمین پر "محدود نقصان” ہوا۔ بھارتی افواج نے یہ بھی کہا کہ ایس-400 کی بیٹری کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ پر بھی تک کوئی ثبوت نہیں دیا ہے۔ تاہم ہندوستانی دعوؤں کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

دونوں ممالک میں سول ایوی ایشن ریگولیٹرز نے فضائی حدود کے کئی حصے بند کر دیے۔ پاکستان کی پابندی 10 مئی سے اگلے دن دوپہر تک جاری رہی، جبکہ ہندوستان نے بتیس شمالی ہوائی اڈوں پر پروازیں معطل کر دیں۔

بجلی کی بندش نے ہندوستانی پنجاب کو متاثر کیا اور انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نے جموں و کشمیر کے کچھ حصوں کو متاثر کیا۔ 10 مئی کی سہ پہر تک 48 اموات کی اطلاع ملی۔ یہ تنازع دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان پہلا ڈرون معرکہ ثابت ہوا۔

بھارت حکومت نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے امریکا سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف نے کہا کہ بھارت نے جنگ بندی کی درخواست کی اور پاکستان نے نہیں کی۔ بھارت کی طرف سے جنگ بندی کی شرط پاکستان کی سرزمین کو بھارت کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا بند کرنائے۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں نے جنگ بندی کے بعد فتح کا دعویٰ کیا۔

پاکستانی وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے تاریخی فتح کا دعویٰ کیا اور ایک تقریر میں کہا کہ ” ہم جیت گئے ہیں ”

پاکستان
زندہ باد

More posts