Baaghi TV

پاکستانی بچوں کے خون میں سیسہ اور ایک نسل کا مستقبل داؤ پر،تحریر:اعجاز الحق عثمانی

ejaz

مئی 2026 کے آغازمیں حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کے ادارے UNICEF نے مشترکہ طور پر ایک تحقیقاتی رپورٹ جاری کی جس نے طبی ماہرین، ماحولیاتی ماہرین اور (بظاہر)پالیسی سازوں کے(بھی) ہوش اڑا دیے۔ اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، راولپنڈی، کوئٹہ اور ہری پور سمیت سات بڑے شہروں میں ایک سے تین سال کی عمر کے دو ہزار سے زائد بچوں کے خون کے نمونے لیے گئے،تقریبا چالیس فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی مقدار خطرناک حد سے زیادہ تھی۔

یعنی پاکستان کے صنعتی شہروں میں ہر دس میں سے چار بچوں کے خون میں ایک ایسی زہریلی دھات جو بغیرکسی علامت کے ان کے دماغ، اعصاب،خون اور ہڈیوں میں جمع ہورہی ہے۔سب سے خطرناک اعداد و شمار ہری پور کے صنعتی علاقے حطار سے سامنے آئے جہاں 88 فیصد بچوں کے خون میں سیسہ پایا گیا۔یہ ایسی شرح ہے جو صرف پاکستان نہیں بلکہ جو عالمی سطح پر بھی بدترین شرح ہے۔ جبکہ اسلام آباد میں یہ شرح محض ایک فیصد رہی، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ صنعتی آلودگی بچوں کی صحت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔

لیڈ یعنی سیسہ ایک بھاری دھات ہے جو زمین میں قدرتی طور پر پائی جاتی ہے۔ صدیوں سے یہ پائپوں، رنگوں، برتنوں، ہتھیاروں اور صنعتی مصنوعات میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ بیسویں صدی کے وسط تک جب اس کے انسانی صحت پر تباہ کن اثرات سامنے آئے تو مغربی ممالک نے اس پر سخت پابندیاں عائد کر دیں تھیں پٹرول، رنگ اور پانی کے پائپوں سے اسے ہٹا دیا گیا۔

مگر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں یہ دھات آج بھی مختلف شکلوں میں ماحول کا حصہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے واضح کہا ہے کہ ‘خون میں سیسے کی کوئی بھی محفوظ مقدار نہیں ہوتی’۔ یعنی اس کی ذرہ برابر موجودگی بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے، خاص طور پر بچوں کے لیے۔پاکستان کے صنعتی علاقوں میں گاڑیوں، جنریٹرز اور یو پی ایس کی پرانی بیٹریاں چھوٹے غیر رجسٹرڈ یونٹوں میں توڑی اور پگھلائی جاتی ہیں۔ اس عمل کے دوران سیسے کے باریک ذرات پانی اور ہوا میں شامل ہو جاتے ہیں،ایک اور بڑی وجہ جسے ہم لوگ کم علمی کی وجہ سے مفید سمجھتے آرہے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں صدیوں پرانی روایت کے تحت نومولود بچوں اور بڑوں کو آنکھوں میں سرمہ لگایا جاتا ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ بعض روایتی سرمے میں سیسے کی خاطر خواہ مقدار پائی جاتی ہے۔ آنکھ کی اندرونی جھلی سے یہ براہ راست خون میں جذب ہو جاتا ہے، اور آنکھ سے ناک کی نالی کے ذریعے نگل بھی لیا جاتا ہے۔ چھوٹے بچوں کے لیے یہ ایک انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

سیسے کی سب سے بڑی سفاکی یہ ہے کہ یہ خاموشی سے نقصان پہنچاتا ہے۔ کوئی بخار نہیں، کوئی درد نہیں، کوئی فوری علامت نہیں۔ والدین دیکھتے ہیں کہ بچہ معمول کے مطابق ہنستا کھیلتا ہے، مگر اندر ہی اندر اس کا دماغ، اس کا اعصابی نظام آہستہ آہستہ متاثر ہوتا رہتا ہے۔ مگر سیسہ ایک نیوروٹاکسن ہے جو بچوں کی ذہنی نشوونما کو گہرا نقصان پہنچاتا ہے۔ IQ میں کمی، یادداشت کا کمزور ہونا، سیکھنے کی صلاحیت کا متاثر ہونا اور توجہ کی کمی جیسے اثرات بعد میں تعلیمی کارکردگی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔WHO کے مطابق سیسہ طویل مدت میں گردوں، دل اور دماغ کو مستقل نقصان پہنچا سکتا ہے، اور یہ ایسا نقصان ہے جو اکثر ناقابل علاج ہوتا ہے۔

دنیا بھر میں تقریبا 80 کروڑ بچے سیسے کی آلودگی سے متاثر ہیں اور ان میں سے بڑی تعداد جنوبی ایشیا میں رہتی ہے۔ مگر پاکستان کا معاملہ خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ یہاں اس مسئلے کے متعدد ذرائع بیک وقت موجود ہیں، تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت کاری، غیر رسمی ری سائیکلنگ، پرانے بنیادی ڈھانچے، کمزور قانون نافذ کرنے والے ادارے اور اس سے بھی بڑھ کر شعور کا فقدان یہاں سب سے بڑا دشمن ہے۔

More posts