دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں جنگیں صرف سرحدی تنازعات نہیں رہیں بلکہ ان کے اثرات ماحول، موسم اور انسانی زندگی کے ہر پہلو تک پہنچ چکے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام پیدا کیا ہے بلکہ اس کے اثرات اب موسمیاتی تبدیلی کی صورت میں بھی واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ تیل کی تنصیبات پر حملے، آئل ریفائنریوں کی تباہی، اور بڑے پیمانے پر ایندھن کے جلنے سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، زہریلی گیسیں اور دھواں شامل ہو رہا ہے جو عالمی درجہ حرارت اور فضائی معیار دونوں کو متاثر کر رہا ہے۔ماہرین کے مطابق جب جنگی صورتحال میں صنعتی تنصیبات، تیل کے ذخائر اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچتا ہے تو اس سے نہ صرف فوری آلودگی بڑھتی ہے بلکہ اس کے اثرات طویل مدت تک بارشوں کے نظام، درجہ حرارت اور موسمی توازن کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے متاثر ہونے سے عالمی توانائی سپلائی میں خلل پڑا ہے جس کے باعث کئی ممالک مہنگے اور زیادہ آلودہ ایندھن کی طرف جا رہے ہیں، جو مزید کاربن اخراج کا سبب بن رہا ہے۔اس صورتحال کا براہِ راست اثر پاکستان پر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کمزور ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
اگر خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور جنگی حالات اسی طرح برقرار رہتے ہیں تو پاکستان میں شدید گرمی کی لہریں، غیر متوازن مون سون بارشیں، سیلاب اور خشک سالی کے واقعات میں اضافہ، اور فضائی آلودگی کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خطرہ موجود ہے۔اسی لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف حالات کا تماشائی نہ رہے بلکہ ایک مضبوط موسمیاتی تیاری اختیار کرے۔ سب سے پہلے پانی کے نظام کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ بڑے ڈیمز کی تعمیر کے ساتھ ساتھ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام اور جدید آبپاشی کے طریقوں کو اپنانا ہوگا تاکہ پانی کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ آنے والے سالوں میں پانی پاکستان کی معیشت اور بقا دونوں کے لیے سب سے اہم مسئلہ بن سکتا ہے۔دوسرا اہم قدم شجرکاری اور جنگلات میں اضافہ ہے۔ پاکستان کے شہروں میں درختوں کی کمی گرمی اور آلودگی کو بڑھا رہی ہے۔ اگر بڑے پیمانے پر درخت لگائے جائیں، شہری علاقوں میں سبز کوریڈورز بنائے جائیں اور شہری منصوبہ بندی میں ماحول کو مرکزی حیثیت دی جائے تو درجہ حرارت میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے۔اگر پاکستان میں شہروں، سڑکوں اور خالی جگہوں پر نیم، پیپل، برگد، شیشم اور جامن جیسے مقامی درخت زیادہ لگائے جائیں تو یہ نہ صرف درجہ حرارت کم کرتے ہیں بلکہ فضائی آلودگی بھی کم کرتے ہیں اور شہری ماحول کو زیادہ قابلِ رہائش بناتے ہیں۔تیسرا اہم شعبہ توانائی کا ہے۔ ایران اور امریکہ کی جنگ جیسے حالات عالمی تیل کی قیمتوں کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان کو فوری طور پر قابلِ تجدید توانائی یعنی شمسی توانائی، ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی اور آبی توانائی کی طرف منتقل ہونا ہوگا تاکہ مہنگے تیل پر انحصار کم ہو سکے۔چوتھا پہلو شہری منصوبہ بندی ہے۔ پاکستان کے بڑے شہر تیزی سے کنکریٹ کے جنگل بنتے جا رہے ہیں جہاں گرمی جذب ہو کر حرارتی جزیرے کا اثر پیدا کرتی ہے۔ اس کے لیے سبز عمارتیں، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ اور ماحول دوست بنیادی ڈھانچے کی ترقی ضروری ہے۔پانچواں قدم زراعت میں مزید بہتری اور اس کی مکمل جدید کاری ہے۔
اگرچہ پنجاب میں پہلے ہی سپر سیڈر اور جدید مشینری کے ذریعے فصلوں کی باقیات جلانے کے مسئلے کو کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نظام کو مزید وسیع اور مؤثر بنایا جائے۔ کسانوں کو ایسے بیج فراہم کیے جائیں جو کم پانی اور زیادہ گرمی برداشت کر سکیں، اور جدید زرعی تحقیق کو عام کاشتکار تک پہنچایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمی پیشگوئی کے نظام کو مزید مضبوط کرنا ہوگا تاکہ کسان بروقت فیصلے کر سکیں اور فصلوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔آخر میں سب سے اہم چیز آفات سے نمٹنے کی تیاری ہے۔ پاکستان کو ایسا مضبوط نظام قائم کرنا ہوگا جو سیلاب، شدید گرمی کی لہروں اور فضائی آلودگی جیسے خطرات کے لیے بروقت وارننگ دے سکے اور فوری ردعمل ممکن بنا سکے۔نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران اور امریکہ کی جنگ صرف ایک سیاسی یا عسکری تنازع نہیں بلکہ ایک وسیع تر ماحولیاتی خطرہ بن چکی ہے۔ اگر پاکستان نے آج سے سنجیدہ منصوبہ بندی نہ کی تو 2030 تک موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید شدید اور خطرناک ہو سکتے ہیں، لیکن بروقت اقدامات کے ذریعے پاکستان نہ صرف ان خطرات سے بچ سکتا ہے بلکہ ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل بھی تشکیل دے سکتا ہے۔
